سماجوادی پارٹی کے سینیئر رہنما اور اتر پردیش کے سابق کابینی وزیر محمد اعظم خان نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے کی گئی حالیہ گرفتاری اور غازی آباد کی خصوصی پی ایم ایل اے عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کر دیا ہے۔ اعظم خان کے وکیل نظام پاشا نے چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ کے روبرو معاملے کا فوری ذکر کرتے ہوئے جلد سماعت کی استدعا کی، جس پر عدالت عظمیٰ نے اس عرضی کو رواں ہفتے ہی سماعت کے لیے مقرر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
اعظم خان نے عدالت عظمیٰ میں دائر اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ 31 اکتوبر کو جب وہ تقریباً 348 دنوں کے طویل قید کے بعد رام پور ڈسٹرکٹ جیل سے قانونی طور پر رہا ہوئے، تو اس رہائی کے محض چالیس منٹ بعد ہی مرکزی تفتیشی ادارے ای ڈی نے انہیں مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی اور ٹرسٹ سے وابستہ منی لانڈرنگ کیس میں دوبارہ حراست میں لے لیا۔ درخواست میں اس کارروائی کے طریقہ کار اور قانونی جواز پر شدید اعتراض اٹھاتے ہوئے غازی آباد کی خصوصی عدالت کی جانب سے دی گئی چودہ روزہ عدالتی تحویل کے حکم کو مکمل طور پر کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قانونی پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو اعظم خان اور ان کے فرزند عبداللہ اعظم کو دوہرے پین کارڈ سے متعلق مقدمے میں 17 نومبر 2025 کو نچلی عدالت کی جانب سے سات برس کی قید کی سزا سنائی گئی تھی، جس کی توثیق بعد ازاں اپریل 2026 میں سیشن عدالت نے بھی کی تھی۔ تاہم 29 اکتوبر کو الہٰ آباد ہائی کورٹ نے ٹھوس قانونی دلائل کی روشنی میں دونوں رہنماؤں کی سزا معطل کرتے ہوئے ان کی باضابطہ ضمانت منظور کی تھی۔ ہائی کورٹ کے اس ریلیف کے بعد جب رہائی عمل میں آئی تو تفتیشی ایجنسیوں کے فوری اقدام نے قانونی اور شہری حلقوں میں اختیارات کے استعمال پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ریاست میں مسلم قیادت کے نمائندہ چہرے کے طور پر دیکھے جانے والے اعظم خان پر گزشتہ چند برسوں کے دوران سینکڑوں مقدمات قائم کیے گئے ہیں جن میں ان کا قائم کردہ تاریخی تعلیمی ادارہ مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی مرکزی نقطہ رہا ہے۔ اقلیتی برادری اور حقوق انسانی کے کارکنان کی جانب سے طویل عرصے سے یہ تشویش ظاہر کی جاتی رہی ہے کہ منتخب سیاسی نمائندوں اور تعلیمی منصوبوں کو قانونی گھیراؤ کے ذریعے نشانہ بنانے کے منفی اثرات پورے سماجی و تعلیمی ڈھانچے پر پڑتے ہیں۔ بار بار ضمانت ملنے کے باوجود نئے مقدمات یا تفتیشی کارروائیوں کا تسلسل انصاف کے تقاضوں پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔
عدالت عظمیٰ میں ہونے والی پیش رفت پر ملک بھر کے سیاسی اور قانونی حلقوں کی نگاہیں لگی ہوئی ہیں۔ چیف جسٹس کی بنچ کے سامنے ہونے والی اس سماعت سے نہ صرف اعظم خان کی فوری آزادی اور حراست کی حیثیت کا تعین ہوگا، بلکہ یہ فیصلہ بھی سامنے آئے گا کہ کسی شہری کی عدالتی رہائی کے چند منٹ بعد مرکزی ایجنسیوں کا دوبارہ تحویل میں لینا ضابطہ اخلاق اور بنیادی آئینی حقوق کے معیار پر کس حد تک پورا اترتا ہے۔




