اروناچل پردیش کے سرحدی علاقوں میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر ایک بار پھر ہندوستان اور چین کی افواج کے مابین کشیدگی کی اطلاعات نے ملک کی سیاسی اور دفاعی فضا میں ہلچل مچا دی ہے۔ انڈو تبت بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور نے راجستھان کے شہر الور میں منعقدہ سالانہ تقریب کے دوران تصدیق کی کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران مشرقی سرحد پر متعدد مقامات پر دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان آمنے سامنے کی جھڑپوں جیسی صورتحال پیدا ہوئی ہے، جو اب بھی برقرار ہے۔ اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار کی جانب سے اس زمینی صورتحال کے اعتراف نے اپوزیشن جماعتوں کو حکومت پر براہ راست سوالات اٹھانے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق آئی ٹی بی پی چیف نے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے روایتی جنگی طریقوں کے مقابلے جدید فوجی صلاحیتوں اور ڈرون ٹیکنالوجی کی فوری اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ چین اپنی فوجی طاقت اور انفراسٹرکچر پر غیر معمولی وسائل خرچ کر کے فوج کو جدید بنا چکا ہے، جس کی وجہ سے روایتی عسکری حکمت عملی سے خطرات کا مقابلہ کرنا روز بروز پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے ڈرون ٹیکنالوجی کو عصری دور کا سب سے مؤثر طریقہ قرار دیتے ہوئے باور کرایا کہ اگر دفاعی حکمت عملی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہ کیا گیا تو سرحدی توازن قائم رکھنا دشوار ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب اس انکشاف کے سامنے آتے ہی کانگریس پارٹی نے مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی سے فوری وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے پارلیمانی جوابدہی پر زور دیتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا گلوان اور ڈوکلام کے بعد ایک اور بڑا تصادم جنم لے رہا ہے اور کیا ہندوستانی دستوں کے روایتی گشت کے حقوق بحال ہو سکے ہیں۔ کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام لگایا کہ سرحد پر پیدا ہونے والی صورتحال سے متعلق حساس حقائق کو عوامی سطح پر لانے سے گریز کیا جا رہا ہے، جس سے ملک کی دفاعی ترجیحات پر شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔
پیدا شدہ صورتحال کے پیش نظر وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے وضاحت پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ مسائل اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب چینی فوجی دستے طے شدہ معمولات سے ہٹ کر سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔ ترجمان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور سفارتی سطح پر قائم مختلف چینلز کے ذریعے گفت و شنید جاری ہے تاکہ کسی بھی قسم کے غلط تخمینے یا کشیدگی کے دائرہ کار کو پھیلنے سے بروقت روکا جا سکے۔ وزارت نے اعادہ کیا کہ سرحد پر امن و استحکام باہمی تعلقات کی پیش رفت کے لیے لازمی شرط ہے۔




