پولیس کی من مانی پر عدالت کا بڑا ایکشن، یوپی حکومت پر بھاری جرمانہ اور ملزم کو رہا کرنے کی ہدایت

الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے شہری حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے بغیر ٹھوس وجہ بتائے کسی بھی شخص کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے اناؤ کے ایک رہائشی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے نہ صرف اس کی فوری رہائی کا حکم جاری کیا بلکہ اترپردیش حکومت پر 10 لاکھ روپے کا بھاری جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ پولیس کی جانب سے گرفتاری کے وقت ملزم کو تحریری طور پر وجوہات فراہم نہ کرنا آئینی دفعات اور سپریم کورٹ کے رہنما خطوط کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

یہ معاملہ اناؤ کے اسیون تھانہ پولیس کی جانب سے منوج کمار نامی شخص کی گرفتاری سے متعلق ہے۔ منوج کمار کو رواں سال 27 جنوری کو ایک مقدمے میں حراست میں لیا گیا تھا، تاہم گرفتاری کے وقت پولیس نے قانون کے مطابق اسے گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ نہیں کیا اور صرف ایف آئی آر نمبر درج کرنے پر اکتفا کیا۔ اس کے بعد مجسٹریٹ نے بھی طریقہ کار کو نظر انداز کرتے ہوئے ریمانڈ منظور کر لی تھی۔ منوج کمار کے بیٹے مدیت نے اس کارروائی کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جس پر جسٹس عبدالمعین اور جسٹس پرمود کمار سریواستو کی بنچ نے یہ اہم فیصلہ سنایا۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کسی بھی شہری کو اس کے دفاع کے حق سے محروم رکھنا یا اسے یہ بتائے بغیر کہ اسے کیوں گرفتار کیا جا رہا ہے، جیل میں ڈالنا بنیادی انسانی حقوق کی پامالی ہے۔ بنچ نے ہیبیس کارپس کی درخواست منظور کرتے ہوئے ریمانڈ کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا اور ہدایت دی کہ اگر ملزم کسی دوسرے کیس میں مطلوب نہیں ہے تو اسے فی الفور رہا کیا جائے۔ عدالت نے ریاست کو 4 ہفتوں کے اندر جرمانے کی رقم درخواست گزار کو ادا کرنے کا حکم دیا ہے، تاہم حکومت کو یہ چھوٹ دی گئی ہے کہ وہ یہ رقم متعلقہ قصوروار پولیس افسران کی تنخواہوں سے وصول کر سکتی ہے۔

قانون دانوں کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے پولیس کے اس رویے پر لگام لگے گی جہاں اکثر ملزمین کو ان کے حقوق بتائے بغیر ہی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کا یہ سخت موقف ریاست میں پولیس ریفارمز اور آئینی بالادستی کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے پہلے بھی عدالت نے پولیس افسران کی سستی اور طریقہ کار میں خامیوں پر شدید برہمی کا اظہار کیا تھا۔

شیئر کریں۔