بینک تفتیشی ادارہ نہیں بن سکتے: بغیر ٹھوس وجہ اکاؤنٹ منجمد کرنے پر ہائی کورٹ برہم، بینک پر بھاری جرمانہ

الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے بینکوں کی جانب سے صارفین کے اکاؤنٹس کو من مانے طریقے سے منجمد کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر سخت قانونی کارروائی کی ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ بینک ایک ٹرسٹی یعنی امانت دار کی حیثیت رکھتے ہیں اور انہیں کسی بھی صورت میں تفتیشی یا جانچ ایجنسی کا کردار ادا کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ جسٹس شیکھر بی سراف اور جسٹس اودھیش کمار چودھری پر مشتمل ڈویژن بنچ نے انڈین اوورسیز بینک کی جانب سے ایک تجارتی ادارے کا اکاؤنٹ فریز کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بینک پر 50 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔

یہ قانونی تنازع ‘میسرس ایس اے انٹرپرائزز’ نامی کمپنی کی درخواست پر سامنے آیا جو ماہی پروری کی مشینری کے کاروبار سے وابستہ ہے۔ کمپنی کے مطابق 16 جنوری 2026 کو ان کے اکاؤنٹ میں 23 لاکھ روپے کی رقم آر ٹی جی ایس (RTGS) کے ذریعے منتقل ہوئی تھی۔ بینک انتظامیہ نے اس ٹرانزیکشن کو مشکوک قرار دیتے ہوئے فوری طور پر اکاؤنٹ منجمد کر دیا تھا۔ بینک کا موقف تھا کہ کمپنی نے اکاؤنٹ کھلواتے وقت اپنی سالانہ آمدنی محض 5.76 لاکھ روپے ظاہر کی تھی، لہٰذا اتنی بڑی رقم کی منتقلی پر منی لانڈرنگ کے خدشے کے تحت یہ قدم اٹھایا گیا۔

سماعت کے دوران عدالت نے بینک کے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اکاؤنٹ منجمد کرنے کی کارروائی کسی سائبر کرائم رپورٹ یا پولیس، ای ڈی اور سی بی آئی جیسے اداروں کی ہدایت پر نہیں کی گئی تھی، بلکہ بینک نے خود ہی تفتیشی ایجنسی بننے کی کوشش کی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بینک خود سے رقومات کے ذرائع کا تعین کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ اس طرح کی من مانی کارروائیوں سے نہ صرف کاروبار میں شدید خلل پڑتا ہے بلکہ مارکیٹ میں کھاتہ داروں کی ساکھ اور شبیہہ کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔

عدالت نے بینکوں کو متنبہ کیا ہے کہ کسی قانونی بنیاد کے بغیر صارفین کے مالیاتی لین دین کو روکنا ایک ‘پریشان کن’ عمل ہے جسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ہائی کورٹ نے انڈین اوورسیز بینک کو حکم دیا ہے کہ وہ جرمانے کی 50 ہزار روپے کی رقم 4 ہفتوں کے اندر متاثرہ کھاتہ دار کو ادا کرے۔ اس فیصلے کو بینکنگ سیکٹر میں صارفین کے تحفظ اور بینکوں کی بے جا مداخلت کو روکنے کے حوالے سے ایک بڑی مثال تصور کیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں۔