نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے جموں و کشمیر اور بالخصوص ملک کی تاریخ میں مسلمانوں کے کردار کے حوالے سے ایک بڑا اور سنگین الزام عائد کیا ہے۔ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں میں میڈیا نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور ان کے نظریاتی ہم نوا ملک کی تاریخ سے مسلمانوں کی لازوال قربانیوں کو حذف کرنے اور انہیں پس پشت ڈالنے کی منظم کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی ملک میں جمہوریت، سیکیورٹی اور عوامی اقدار پر کوئی آنچ آئی تو مسلمانوں نے سب سے آگے بڑھ کر جانوں کے نذرانے پیش کیے، لیکن اب اس شاندار ماضی کو دانستہ طور پر فراموش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔
رکن پارلیمنٹ نے وادی کے موجودہ سیاسی و آئینی منظرنامے اور دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد کی صورتحال پر سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے تشخص کی بحالی کی جدوجہد ان کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ جہاں کہیں بھی دفعہ 370 کی واپسی اور کشمیریوں کے آئینی حقوق کی لڑائی لڑی جائے گی، آغا سید روح اللہ مہدی وہاں اگلی صفوں میں کھڑا نظر آئے گا۔ جموں و کشمیر کو دوبارہ مکمل ریاست کا درجہ دیے جانے کے عوامی مطالبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ ریاستی درجہ ایک اہم اور بنیادی مسئلہ ہے، لیکن اس وقت وادی کے عوام کو کچھ ایسے سنگین اور فوری مسائل کا سامنا ہے جو براہ راست ان کے روزگار اور وجود سے جڑے ہوئے ہیں اور جن پر فوری توجہ دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔
آغا روح اللہ مہدی نے وادی کے معاشی اور جغرافیائی تحفظات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ آج کشمیر کا سب سے بڑا بحران یہ ہے کہ یہاں کی سرکاری نوکریاں مقامی نوجوانوں کے بجائے بڑے پیمانے پر آؤٹ سورس کی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے مقامی تعلیم یافتہ طبقہ بے روزگاری کے دلدل میں دھنس رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے زمین کے حقوق کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہاں کی زمینیں اب محفوظ نہیں رہی ہیں اور مقامی آبادی میں اپنے وسائل سے محروم ہونے کا شدید خوف پایا جاتا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ نوکریوں کی آؤٹ سورسنگ فوری بند کرے اور مقامی وسائل پر پہلا حق یہاں کے باشندوں کو دیا جائے۔
کشمیر کی حالیہ سیاسی ہلچل اور نیشنل کانفرنس کے اراکین اسمبلی کی مبینہ خرید و فروخت (ہارس ٹریڈنگ) کی افواہوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ نے جمہوری اقدار کی پاسداری پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام نے جس حکومت کو منتخب کیا ہے، اسے اپنی آئینی مدت بغیر کسی بیرونی مداخلت کے مکمل کرنے کا پورا موقع ملنا چاہیے۔ انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ جن سیاست دانوں یا اراکین کے نام اس مبینہ خرید و فروخت کے معاملے میں اچھالے جا رہے ہیں، انہیں سنجیدگی کے ساتھ خود احتسابی کرنی چاہیے کہ آخر ان کی وفاداری اور کردار پر ایسے سوالات کیوں کھڑے ہو رہے ہیں۔
سیاسی اور میڈیا گفتگو سے قبل آغا سید روح اللہ مہدی نے شوپیاں کے منی سیکریٹریٹ میں ضلع ترقیاتی رابطہ و نگرانی کمیٹی (ڈیشا) کے ایک اہم ترین اجلاس کی صدارت بھی کی جہاں انہوں نے عوامی فلاح و بہبود کے کاموں کا جائزہ لیا۔ اس اعلیٰ سطحی میٹنگ میں شوپیاں کے رکن اسمبلی ایڈووکیٹ شبر احمد کلے، زیناپورہ کے رکن اسمبلی شوکت حسین گنی، ڈپٹی کمشنر شوپیاں اور دیگر تمام محکموں کے سربراہان موجود تھے۔ اجلاس کے دوران رکن پارلیمنٹ نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ مرکزی اور ریاستی اسکیموں کا فائدہ زمینی سطح پر عام لوگوں تک پہنچائیں اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں کسی بھی قسم کی سستی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔




