پٹنہ میں ریاستی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ یکم دسمبر سے بہار بھر میں ایک خصوصی مہم شروع کی جائے گی جس کا مقصد صاحب ثروت اور خوشحال خاندانوں کو بجلی پر ملنے والی سرکاری سبسڈی رضاکارانہ طور پر چھوڑنے کی ترغیب دینا ہے۔ حکومت کے مطابق اس اقدام سے بچنے والے وسائل کو غریب اور ضرورت مند طبقات کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جا سکے گا۔ اس مہم کا موازنہ ماضی میں مرکزی حکومت کی طرف سے شروع کی گئی ایل پی جی گیس سبسڈی چھوڑنے کی تحریک سے کیا جا رہا ہے۔
حکومتی موقف کے مطابق جو شہری اپنی خوشی سے اس سبسڈی سے دستبردار ہوں گے، انہیں سماجی ترقی میں حصہ دار اور معاون تصور کیا جائے گا۔ اس اقدام کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ریاست میں فی الوقت لگ بھگ ایک کروڑ باانوے لاکھ خاندانوں کو ابتدائی ایک سو پچیس یونٹ تک بجلی کی فراہمی میں ریلیف فراہم کیا جاتا رہا ہے، جس سے امیر اور غریب دونوں طبقات یکساں طور پر مستفید ہو رہے ہیں۔
حکومتی حلقوں کا ماننا ہے کہ عوامی خزانے پر سبسڈی کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو متوازن رکھنے کے لیے ایسے طبقات کو رضاکارانہ طور پر آگے لانا ضروری ہے جو مارکیٹ ریٹ پر بجلی کا بل ادا کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔ پالیسی سازوں کے مطابق اس نظام کے ذریعے بجلی کمپنیوں کے مالی خسارے پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ محروم اور پسماندہ طبقات کو مستحکم بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔
اس فیصلے کے سماجی اور معاشی اثرات کا جائزہ لیا جائے تو بہار جیسے گنجان اور معاشی طور پر حساس خطے میں توانائی کے شعبے کی پائیداری ایک بڑا چیلنج رہی ہے۔ اگر یہ مہم کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے تو اس سے سرکاری مالیات کو سہارا ملے گا، تاہم اس بات پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے کہ آیا رضاکارانہ اپیل کے بعد صارفین کی جانب سے کیسا ردعمل سامنے آتا ہے۔
محکمہ توانائی اب یکم دسمبر سے شروع ہونے والی آگاہی مہم کے باضابطہ خدوخال اور آن لائن پورٹل کے طریقہ کار کو حتمی شکل دے رہا ہے تاکہ سبسڈی چھوڑنے کے عمل کو شفاف اور آسان بنایا جا سکے۔ انتظامیہ کے مطابق اس عمل میں کسی پر جبر نہیں کیا جائے گا بلکہ پورا دارومدار شہریوں کے سماجی احساس اور رضاکارانہ فیصلے پر ہوگا۔




