مہاراشٹر میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے دوران ووٹر فہرستوں سے بڑے پیمانے پر ناموں کے اخراج کا سنگین معاملہ سامنے آیا ہے، جس میں مسلم آبادی کو غیر متناسب طور پر نشانہ بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ صابر انسٹی ٹیوٹ کے ابتدائی تحقیقی جائزے کے مطابق ریاست بھر میں خارج کیے گئے کل 2 کروڑ 6 لاکھ سے زائد ووٹرز میں سے 30 لاکھ 20 ہزار سے زیادہ افراد مسلم ناموں سے تعلق رکھتے ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے مسلمانوں کی نمائندگی تقریباً 12.1 فیصد بنتی ہے، لیکن ووٹر لسٹوں سے خارج کیے جانے والوں میں یہ تناسب بڑھ کر 14.6 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
خاندانی ناموں یعنی سرنیم کی بنیاد پر کیے گئے تجزیے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سب سے زیادہ کٹوتی ‘شیخ’ سرنیم کے حامل افراد کے ناموں میں ہوئی ہے، جہاں 7 لاکھ 53 ہزار سے زائد شہریوں کے نام فہرست سے ہٹا دیے گئے۔ اس فہرست میں پاٹل دوسرے نمبر پر 4 لاکھ 83 ہزار، خان تیسرے نمبر پر 3 لاکھ 68 ہزار، جبکہ یادھو اور پوار بالترتیب چوتھے اور پانچویں نمبر پر رہے۔ شیخ سرنیم کے تحت خارج ہونے والے 88 فیصد ووٹرز ایسے زمروں میں رکھے گئے جو اموات سے متعلق نہیں تھے، جن میں مستقل منتقلی، غیر حاضری، لاپتہ یا پہلے سے درج ہونے جیسے جواز شامل کیے گئے۔ اس زمرے میں 47 فیصد خواتین ووٹرز متاثر ہوئیں جبکہ ممبئی سے تعلق رکھنے والوں کی شرح لگ بھگ 30 فیصد رہی۔ ممبرا کلوا اسمبلی حلقے میں اس نام کے تحت سب سے زیادہ نام نکالے گئے۔
شہری علاقوں بالخصوص ممبئی کے اندر صورتحال مزید چونکا دینے والی رہی۔ ممبئی کے 36 اسمبلی حلقوں میں ریاست کے کل ووٹرز کا 11 فیصد حصہ موجود تھا، مگر وہاں کل اخراج کا 17 فیصد دیکھا گیا۔ ممبئی کے اندر خارج ہونے والے کل ووٹرز میں مسلم شہریوں کا تناسب 21.3 فیصد ریکارڈ کیا گیا جو باقی مہاراشٹر کے 13.2 فیصد کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔ کولابا اسمبلی حلقے میں 1 لاکھ 19 ہزار سے زائد ووٹرز کے نام کاٹ دیے گئے، جو کہ گزشتہ 2024 کے اسمبلی انتخابات میں اس حلقے میں ڈالے گئے کل ووٹوں سے بھی زیادہ تعداد ہے۔ اسی طرح تھانے، ممبئی سٹی اور ممبئی مضافات کے اضلاع میں غیر امواتی زمروں کے تحت ووٹوں کی منسوخی کی شرح 30 سے 35 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
تحقیقی رپورٹ میں وجوہات کا تفصیلی موازنہ کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ عام ووٹرز کے مقابلے میں مسلم ناموں والے شہریوں کو ‘پہلے سے درج’ یا ‘ڈپلیکیٹ’ دکھا کر خارج کیے جانے کے امکانات دو گنا سے بھی زیادہ پائے گئے۔ مسلم ناموں میں شیخ، خان، سید اور پٹھان جیسے عمومی نام کثرت سے دہرائے جاتے ہیں، اور اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ سافٹ ویئر یا مینوئل بنیاد پر بغیر زمینی تصدیق کے ان ناموں کو ڈپلیکیٹ قرار دے کر لسٹ سے بے دخل کر دیا گیا۔ اس کے برعکس مسلم ووٹرز میں وفات کی بنیاد پر اخراج کی شرح محض 11.8 فیصد تھی، جبکہ دیگر ووٹرز میں یہ شرح 16.8 فیصد تھی۔
جمہوری اور انتخابی اعتبار سے اس بڑے پیمانے کی کٹوتی کے اثرات انتہائی خطرناک ہیں۔ ریاست کے کل 288 میں سے 190 اسمبلی حلقوں میں ایسے زندہ ووٹرز کی تعداد خارج کی گئی جو 2024 کے الیکشن میں جیتنے والے امیدواروں کی لیڈ یعنی مارجن سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کا براہ راست مطلب یہ بنتا ہے کہ انتخابی نتائج کو الٹ پلٹ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی آبادی کو خاموشی سے ووٹر لسٹوں سے باہر کر دیا گیا۔ اقلیتی حلقوں اور سماجی حقوق کے ماہرین نے اس عمل کو بنیادی جمہوری حق یعنی ووٹ کے حق پر کھلا ڈاکہ قرار دیتے ہوئے اس کے سنگین آئینی نتائج پر متنبہ کیا ہے۔
اگرچہ ووٹر لسٹ سے نام خارج ہونے سے کسی کی شہریت براہ راست منسوخ نہیں ہوتی، تاہم ووٹر شناختی کارڈ کی عدم موجودگی سے شہریوں کو بنیادی دستاویزات، رہائشی ثبوت اور سرکاری فلاحی اسکیموں کے حصول میں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی حلقوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ ان ناموں کی فوری طور پر شفاف اور آزادانہ تصدیق کروائی جائے تاکہ کروڑوں مستحق اور قانونی شہریوں کے آئینی حق کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔




