ہم بی جے پی سے نہیں سپریم کورٹ کے فیصلوں کی وجہ سے بنگال الیکشن ہارے، ابھیشیک بنرجی کا سنسنی خیز دعویٰ

ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سیکریٹری اور رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی نے مغربی بنگال میں انتخابی نتائج پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے براہ راست سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے کولکاتا میں پریس کانفرنس کے دوران دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ان کی جماعت انتخابی میدان میں بھارتیہ جنتا پارٹی سے نہیں ہاری، بلکہ سپریم کورٹ کی ہدایات پر درست طریقے سے عمل نہ ہونے کی وجہ سے یہ شکست سامنے آئی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں بی جے پی حکومت بنگال کو ایک مطلق العنان پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کرنے کی مسلسل کوشش کر رہی ہے۔

ابھیشیک بنرجی نے اپنی پریس کانفرنس میں ووٹوں کی گنتی کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے گنتی سے متعلق رینڈمائزیشن کے واضح احکامات جاری کیے تھے۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اس مہم میں مرکزی اور ریاستی حکومت کے افسران کی مشترکہ شمولیت لازمی تھی، لیکن گنتی کے روز ریاستی افسران کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ کے واضح احکامات کے باوجود انتخابی مشینری نے قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی، جس کی وجہ سے انتخابی نتائج کی شفافیت مشکوک ہو گئی۔

انتخابی مشینوں کے تحفظ سے متعلق سنگین انکشاف کرتے ہوئے ترنمول رہنما نے دعویٰ کیا کہ نتائج کے اعلان کے محض ایک ماہ کے اندر کئی مقامات پر ای وی ایم مشینوں کو نذر آتش کر دیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنے بڑے آئینی اور تکنیکی جرم پر عدلیہ نے ازخود نوٹس لینے کی زحمت تک گوارا نہیں کی۔ ابھیشیک بنرجی کے مطابق اگر ملک کے اعلیٰ ترین ادارے اس قسم کی سنگین دھاندلیوں پر خاموشی اختیار کریں گے تو پھر عام شہری کے جمہوری اور آئینی حقوق کے تحفظ کی امید کس سے لگائی جائے گی۔

حکومت اور اداروں کو چیلنج کرتے ہوئے ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ اگر ان کے انکشافات پر ان کے خلاف ازخود نوٹس کے تحت توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جاتی ہے تو وہ اپنا مقدمہ خود عدالت میں لڑیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس ممکنہ عدالتی کارروائی کو قومی ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کیا جانا چاہیے تاکہ ملک کے عوام حقائق کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ عدلیہ کا احترام کرتے ہیں، لیکن احتساب سے بالاتر کوئی ادارہ نہیں ہو سکتا اور ناانصافی کے خلاف بولنا ہر جمہوری شہری کا حق ہے۔

جمہوری اداروں کی آزادی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت آزادی کے بنیادی رہنماؤں کے خوابوں سے دور ہوتا جا رہا ہے جہاں سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لیے ریاستی طاقت کا بے دریغ استعمال عام ہو چکا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ انتخابی فہرستوں کی مبینہ چھانٹی، گنتی میں ریاستی عملے کی بے دخلی اور ای وی ایم سے جڑے شکوک و شبہات نے جمہوری نظام پر عوام کے اعتماد کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔

آنے والے دنوں میں اس بیان بازی کے نتیجے میں مغربی بنگال کی سیاست میں زبردست قانونی اور پارلیمانی محاذ آرائی کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ ابھیشیک بنرجی کے عدلیہ پر کھلے الزامات کے بعد قانونی حلقوں اور الیکشن کمیشن کی جانب سے ممکنہ جوابی اقدامات پر پورے ملک کی نگاہیں جمی ہوئی ہیں۔ جمہوری شفافیت، آئینی اداروں کے کردار اور انتخابی نظام پر اٹھنے والے یہ سوالات آئندہ سیاسی منظر نامے میں مزید گہرے اثرات مرتب کریں گے۔

شیئر کریں۔