الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے سات ریاستوں میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی کے دوران خارج کیے گئے ووٹروں کو دوبارہ شامل ہونے کا موقع دینے کے فیصلے کو کانگریس نے ادارے کا کھلا یو ٹرن قرار دیا ہے۔ کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ الیکشن کمیشن نے تاخیر سے ہی سہی مگر یہ بالواسطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے کہ اس مہم کے تحت لاکھوں جائز ووٹروں کے نام غلط طریقے سے خارج کیے گئے تھے۔ حزب اختلاف نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فوری استعفے اور جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) مہم کو فوری طور پر معطل کرنے کے اپنے دیرینہ مطالبے کو ایک بار پھر دہرایا ہے۔
الیکشن کمیشن نے ایک تازہ ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے دہلی، مہاراشٹر، ہریانہ، آندھرا پردیش، جھارکھنڈ، تلنگانہ اور ناگالینڈ کے چیف الیکٹورل آفیسرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایسے تمام شہریوں کے نام دوبارہ شامل کرنے کے اقدامات کریں جنہیں غیر حاضر، منتقل شدہ، فوت شدہ یا ڈپلیکیٹ (اے ایس ڈی ڈی) کے زمرے میں ڈال کر مسودہ فہرست سے الگ کر دیا گیا تھا۔ یہ پیش رفت ان افراد کے لیے سامنے آئی ہے جنہیں فارم جاری کیے گئے تھے لیکن وہ بروقت واپس جمع نہیں ہو سکے تھے۔ کمیشن نے اہلکاروں کو سخت نگرانی کا طریقہ کار اپنانے کو کہا ہے تاکہ کوئی بھی اہل شہری اپنے ووٹ کے آئینی حق سے محروم نہ رہے۔
کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ووٹر فہرستوں سے شہریوں کو بڑے پیمانے پر غیر منصفانہ طور پر بے دخل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں اٹھنے والے عوامی غم و غصے کے بعد اب الیکشن کمیشن یکے بعد دیگرے اصلاحی احکامات جاری کر رہا ہے تاکہ معاملے پر پردہ ڈالا جا سکے۔ جے رام رمیش کے مطابق یہ پورا عمل انتخابی شفافیت کو نقصان پہنچانے اور جمہوری عمل میں دخل اندازی کے مترادف ہے۔
جمہوری اور اقلیتی حلقوں میں اس انتخابی نظر ثانی کو لے کر شدید بے چینی پائی جا رہی ہے، کیونکہ عام طور پر پسماندہ طبقات، اقلیتوں اور عارضی رہائش رکھنے والے محنت کشوں کے نام اس قسم کی انتظامی چھانٹیوں میں سب سے پہلے خارج کر دیے جاتے ہیں۔ کاغذات کی عدم دستیابی یا فارم جمع نہ کر سکنے کے بہانے ووٹرز کو حق رائے دہی سے محروم کرنا شہریوں کے بنیادی جمہوری حقوق پر کاری ضرب مانا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اس قسم کے طریقہ کار سے انتخابی عمل پر عوامی اعتماد بری طرح مجروح ہو رہا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کا واضح موقف ہے کہ جب تک اس پورے عمل کی آزادانہ جانچ نہیں ہوتی اور شفاف نظام وضع نہیں کیا جاتا، تب تک انتخابی فہرستوں کی درستگی مشکوک رہے گی۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے کو پارلیمنٹ کے فورمز کے ساتھ ساتھ عدالت کے دروازے تک لے جانے کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ شہریوں کے حق رائے دہی کا تحفظ اس وقت ملکی سیاست کا مرکزی موضوع بن چکا ہے اور الیکشن کمیشن کے اقدامات پر ملک بھر کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔




