دہلی ہائی کورٹ نے لوٹین دہلی کے حساس علاقے میں واقع تاریخی ریس کورس مسجد میں بجلی اور پانی کی سپلائی اچانک منقطع کیے جانے کے معاملے پر نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے باضابطہ جواب طلب کر لیا ہے۔ جسٹس سبرامونیم پرساد اور جسٹس رینو بھٹناگر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے بلدیاتی ادارے سے براہ راست استفسار کیا کہ کسی پیشگی قانونی نوٹس کے بغیر ایک عبادت گاہ کا بجلی کنکشن کس بنیاد پر منقطع کیا گیا۔ یہ عدالتی کارروائی مسجد کے باقاعدہ امام محمد ہارون کی جانب سے دائر کی گئی اس اپیل پر سامنے آئی ہے جس میں سنگل جج کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔
عدالت میں امام محمد ہارون کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل ایم سفیان صدیقی نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ مسجد ایک باضابطہ مطلع شدہ وقف جائیداد ہے جہاں دہائیوں سے عبادت اور رہائش کا سلسلہ جاری ہے۔ اپیل میں یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ بجلی اور پینے کے پانی کی فراہمی بھارتی آئین کی دفعہ 21 کے تحت زندگی کے بنیادی حق کا لازمی جزو ہے، جسے قانون کے جائز طریقہ کار کے بغیر کسی بھی شہری یا ادارے سے چھینا نہیں جا سکتا۔ کونسل نے نہ تو بقایا جات کی ادائیگی کا کوئی نوٹس جاری کیا تھا، نہ ہی بجلی یا پانی کی چوری کا کوئی الزام تھا، اس کے باوجود راتوں رات یہ سپلائی کاٹ دی گئی۔
اس تنازع کا پس منظر یہ ہے کہ مرکزی حکومت نے رواں سال جون میں جے پور پولو گراؤنڈ اور اگست کے دوران دہلی ریس کلب کا کنٹرول عوامی مقاصد کا حوالہ دے کر اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ اس دوران قریبی کچی بستیوں کے خلاف ہونے والی قانونی کارروائیوں کی آڑ میں مسجد کی بنیادی شہری سہولیات بھی بند کر دی گئیں۔ سنگل جج کی عدالت نے 15 اکتوبر کو امام کی درخواست مسترد کرتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ امام کا مسجد کی اراضی میں کوئی ذاتی مالکانہ حق نہیں بنتا۔ اپیل کنندہ نے اس نتیجے کو قانون کے بنیادی اصولوں کے منافی قرار دیا کیونکہ ایک مقرر امام گزشتہ تین دہائیوں سے مسجد کے نگران کے فرائض انجام دے رہا ہے۔
بنیادی شہری حقوق اور مذہبی آزادی کے تناظر میں یہ پیش رفت انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ مسلمانوں کے مطلع شدہ وقف املاک کے تحفظ اور قانونی طریقہ کار کو بالائے طاق رکھ کر اٹھائے گئے اقدامات سے کمیونٹی میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اگرچہ مرکزی حکومت کی جانب سے عدالت کو یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ فی الحال مذہبی ڈھانچے کے خلاف کوئی منفی یا تخریبی کارروائی نہیں کی جائے گی، لیکن عبادت گاہ سے بنیادی سہولیات کا اچانک انقطاع خود ایک خاموش دباؤ کا تاثر پیدا کر رہا ہے۔
ڈویژن بنچ نے معاملے کی نزاکت کو تسلیم کرتے ہوئے این ڈی ایم سی کو آئندہ دو ہفتوں کے اندر تفصیلی حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا ہے، جبکہ مقدمے کی اگلی سماعت دسمبر کے مہینے میں مقرر کی گئی ہے۔ قانونی ماہرین کی نظریں اب دسمبر کی سماعت پر ٹکی ہیں جہاں اس بات کا حتمی تعین ہوگا کہ وقف املاک پر انتظامی کنٹرول اور شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق کے مابین قانونی توازن کو عدالت کس انداز میں قائم کرتی ہے۔




