لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے پٹرول میں ایتھنول کی ملاوٹ کے مسئلے پر مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے صارفین کے ساتھ کھلی ناانصافی کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کرناٹک حکومت کے مختلف اضلاع سے حاصل کردہ ایندھن کے نمونوں کی لیبارٹری رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مقررہ 20 فیصد حد کے برعکس پٹرول میں ایتھنول کی مقدار 31 فیصد سے بھی زیادہ پائی گئی ہے۔ کانگریس رہنما نے اس عمل کو عوام کی گاڑیوں سے کھلی چوری قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی سے براہ راست شفافیت اور جوابدہی کا مطالبہ کیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری کردہ اپنے تفصیلی بیان میں راہل گاندھی نے واضح کیا کہ کرناٹک کے سات اضلاع سے حاصل کیے گئے 14 نمونوں میں سے 11 میں ایتھنول کی مقدار مقررہ حد سے کہیں زیادہ ریکارڈ ہوئی۔ سرکاری اور نجی دونوں آئل کمپنیوں کی جانچ میں انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ کے نمونوں میں 31.2 فیصد جبکہ ہندوستان پیٹرولیم کے ایندھن میں 30.5 فیصد تک ایتھنول پایا گیا ہے۔ بی پی سی ایل، نائرا اور شیل جیسی دیگر بڑی کمپنیوں کے نمونوں میں بھی یہی صورتحال دیکھی گئی، جس کے باعث پورے ملک کے ایندھن تقسیم کاری نظام پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
مرکزی حکومت کی ای-20 ایندھن پالیسی کے تحت پٹرول میں 20 فیصد ایتھنول شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا تاکہ غیر ملکی تیل پر انحصار کم کیا جا سکے۔ حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ آئل کمپنیاں منافع خوری کے چکر میں بغیر کسی واضح نگرانی کے حد سے زیادہ ایتھنول شامل کر رہی ہیں، جبکہ صارفین کو مہنگے پٹرول کی اصل قیمت وصول کرنے کے باوجود معیاری ایندھن فراہم نہیں کیا جا رہا۔ کمپنیوں کی جانب سے اپنی رپورٹس میں اصل مقدار درج نہ کرنے کو دانستہ کوتاہی قرار دیا جا رہا ہے۔
تکنیکی و عوامی نقطہ نظر سے ایتھنول کی اتنی بڑی مقدار گاڑیوں کے انجن کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ ملک میں چلنے والی اکثر گاڑیاں اتنے زیادہ تناسب کے لیے تیار نہیں کی گئیں، جس کی وجہ سے گاڑیوں کی اوسط رفتار اور ایندھن کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے اور شہریوں کے مرمتی اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پٹرول پمپس پر کسی قسم کی وضاحت یا صارفین کو متبادل انتخاب فراہم نہ کیے جانے سے عام شہری غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔
معاملے کے سیاسی اور عوامی رخ کو دیکھتے ہوئے آنے والے دنوں میں اس پر مزید بحث تیز ہونے کے امکانات ہیں۔ پارلیمنٹ اور ریاستی سطح پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مانیٹرنگ سسٹم، جانچ کے ضوابط اور پٹرولیم مصنوعات کے معیار پر حکومتی وضاحتی پالیسی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ صارفین کے حقوق کے تحفظ اور گاڑیوں کو پہنچنے والے تکنیکی نقصانات کے پیش نظر ایندھن سپلائی چین کی آزادانہ جانچ اور شفاف معیارات کا نفاذ اب ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔




