اتر پردیش کے ضلع رامپور میں ہفتے کے روز اس وقت شدید سیاسی ہلچل مچ گئی جب سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق رکن پارلیمنٹ محمد اعظم خاں کو ضلعی جیل سے رہائی کے محض چند منٹ بعد انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے حراست میں لے لیا۔ اعظم خاں تقریباً گیارہ ماہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنے کے بعد اپنے بیٹے عبداللہ اعظم کے ہمراہ ضمانت پر رہا ہوئے تھے۔ تاہم جیل کی دہلیز پار کرتے ہی مرکزی تفتیشی ادارے کے افسران نے انہیں گھیرے میں لے لیا اور مختصر پوچھ گچھ کے بعد اپنی گاڑی میں بٹھا کر نامعلوم مقام کے لیے روانہ ہو گئے، جبکہ ان کے صاحبزادے عبداللہ اعظم کو گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔
تفتیشی ادارے کے ذرائع کے مطابق یہ کارروائی سال 2019 میں درج کیے گئے ایک مقدمے (ECIR) کے تحت عمل میں لائی گئی ہے، جو کہ انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ (PMLA) کے تحت درج تھا۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ ای ڈی ٹیم اعظم خاں کو غازی آباد کی خصوصی عدالت میں پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس اچانک پیش رفت کے دوران جیل کے باہر تعینات مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے تقریباً چوبیس جوانوں نے حفاظتی حصار قائم کر رکھا تھا تاکہ باہر جمع ہزاروں حامیوں کے ممکنہ ردعمل کو روکا جا سکے۔
جیل سے باہر نکلتے ہی جیسے ہی ای ڈی افسران نے اعظم خاں کو روکا، ان کے اور افسران کے مابین شدید تلخ کلامی ہوئی۔ اس موقع پر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھتے ہوئے اعظم خاں نے کہا کہ اب وہ اس پر مزید کیا کہیں، یہ تو محض مسلمان ہونے کی سزا ہے۔ انہوں نے درد بھرے لہجے میں کہا کہ ان کی غلطی یہ ہے کہ ایک مسلمان نے تعلیمی ادارہ اور یونیورسٹی قائم کی، اور یہی ان کا سب سے بڑا گناہ بنا دیا گیا ہے۔ اس موقع پر جیل کے باہر موجود ان کے چاہنے والوں اور سیاسی کارکنان میں مایوسی اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔
قانونی پس منظر پر نگاہ ڈالیں تو الہ آباد ہائی کورٹ نے انتیس اکتوبر کو دوہرے پین کارڈ معاملے میں اعظم خاں اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم کی دس سالہ سزا معطل کرتے ہوئے دونوں کو باضابطہ ضمانت دی تھی۔ جیل سپرنٹنڈنٹ راجیش یادو کے مطابق جیل انتظامیہ کو اعظم خاں کے پچاس اور عبداللہ کے چالیس مقدمات میں رہائی کے پروانے موصول ہو چکے تھے، جس کے بعد ہفتے کی شام قانونی طریقہ کار کے تحت دونوں کو رہا کیا گیا۔ اگرچہ عدالت نے ان کی سزا تو معطل کر دی تھی، لیکن ان کی سزایابی پر روک نہیں لگائی گئی تھی جس کے سبب ان کی انتخابی نااہلی برقرار ہے۔
ای ڈی کی یہ تازہ کارروائی بنیادی طور پر مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ اور اس کے تحت چلنے والی جوہر یونیورسٹی کی زمینوں کے حصول اور فنڈز کے مبینہ گھپلوں کے الزامات سے جڑی ہے۔ سول سوسائٹی اور اقلیتی حلقوں کی جانب سے اس کارروائی کو سیاسی انتقام اور مخصوص افراد کو مسلسل ہدف بنانے کے رجحان سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے، جس سے ملک میں جمہوری قدروں اور مساوی انصاف کے نظام پر مسلسل سوالات اٹھ رہے ہیں۔
اب قانونی محاذ پر اعظم خاں کی قانونی ٹیم ای ڈی کی اس اچانک گرفتاری کو عدالت میں چیلنج کرنے کی حکمت عملی وضع کر رہی ہے۔ دفاعی وکلاء کا کہنا ہے کہ تمام معاملات میں ضمانت حاصل ہونے کے بعد دروازے پر ہی نئے یا پرانے معاملے میں اٹھا لینا قانونی حقوق اور شخصی آزادی کے بنیادی اصولوں پر گہری ضرب ہے۔ اس پورے معاملے میں آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران عدالتی پیشی اور ای ڈی کی ریمانڈ کی درخواست انتہائی اہمیت کی حامل ہو گی۔




