محمد رضا مانوی
صدر، آل انڈیا آئیڈیل ٹیچرس ایسوسی ایشن، کرناٹک
بچوں کے رویوں میں تبدیلی، محبت کی الجھنوں، موبائل کی کشش اور والدین کی عدم توجہی کے درمیان نوجوانوں کو بھٹکنے سے بچانے کی ذمہ داری خاندان اور تعلیمی نظام دونوں پر عائد ہوتی ہے۔
بچے جب چھوٹے ہوتے ہیں تو ماں باپ کا ہاتھ تھامے بغیر چلنا پسند نہیں کرتے۔ سڑک پار کرتے وقت والد کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیتے ہیں۔ اسکول جاتے وقت ماں کی گود سے اترنے میں بھی ضد کرتے ہیں۔ لیکن یہی بچے جب سولہ سال کی عمر کو پہنچتے ہیں تو گھر والوں کی بات سننے سے کترانے لگتے ہیں۔ والدین کے سوالات انہیں تفتیش محسوس ہوتے ہیں، ان کی فکر انہیں پابندی معلوم ہوتی ہے اور گھر والوں کے مشوروں کے مقابلے میں دوستوں کی رائے زیادہ اہمیت اختیار کرجاتی ہے۔
یہ ہر گھر کی کہانی نہیں، لیکن آج کے بہت سے خاندانوں میں نظر آنے والی ایک حقیقت ضرور ہے۔
سولہ سال کی عمر زندگی کا ایک خوب صورت مرحلہ ہے۔ نئے خواب، نئی دوستیاں، آزادانہ زندگی گزارنے کی خواہش اور دنیا کو اپنی نظر سے دیکھنے کا تجسس اس عمر کی فطری خصوصیات ہیں۔ تاہم اسی عمر میں کشش اور محبت، آزادی اور بے لگام خودمختاری، خوداعتمادی اور ضد کے درمیان فرق سمجھنے کی صلاحیت ابھی پروان چڑھ رہی ہوتی ہے۔ اس مرحلے میں بچوں کی چھوٹی چھوٹی غلطیاں بھی بعض اوقات بڑے نتائج کا سبب بن سکتی ہیں اور ان کا درد خود بچوں سے زیادہ والدین کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
تو کیا سولہ سال کی عمر والدین کے لیے بوجھ بنتی جارہی ہے؟ یا بدلتے ہوئے زمانے میں بچوں کی تربیت کے ہمارے طریقوں کو بدلنے کی ضرورت ہے؟
گزشتہ تیس برسوں سے تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دیتے ہوئے میں نے اسکولوں کے ماحول میں آنے والی تبدیلیوں کو قریب سے محسوس کیا ہے۔ تقریباً دس سال پہلے کے تعلیمی ماحول اور آج کی صورت حال میں نمایاں فرق ہے۔ اس وقت بھی بچوں کے مسائل تھے اور والدین کی شکایتیں بھی تھیں، لیکن آج بچوں کے رویوں، ان کے جذباتی مسائل، دوستیوں اور والدین کے ساتھ پیدا ہونے والے اختلافات پر کہیں زیادہ توجہ دینے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔
تقریباً ہر روز کئی والدین اپنے بچوں کی شکایتیں لے کر تعلیمی اداروں کا رخ کرتے ہیں۔
’’سر! میرا بیٹا میری بات نہیں سنتا۔‘‘
’’کچھ سمجھانے کی کوشش کرو تو الٹا جواب دیتا ہے۔‘‘
’’رات دیر سے گھر آتا ہے، دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے میں زیادہ وقت گزارتا ہے۔‘‘
’’پڑھائی میں پہلے جیسی دلچسپی نہیں رہی، موبائل کے سوا اس کی کوئی دنیا ہی نہیں۔‘‘
یہ وہ جملے ہیں جو اکثر والدین کی زبان سے سننے کو ملتے ہیں۔ بچوں کے رویوں سے پریشان والدین کی بے چینی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہونا بھی فطری ہے لیکن ان شکایتوں کے پیچھے چھپے ایک اور سوال پر ہمیں غور کرنے کی ضرورت ہے۔ بچے ایسا رویہ کیوں اختیار کررہے ہیں؟ ان کے ذہنوں میں کیا چل رہا ہے؟ کیا ہم ان کے احساسات کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں؟ آج یہ سوال بہت اہم ہے کہ کہیں ہم بچوں کو سدھارنے کی جلدی میں ان کے دل و دماغ کو سمجھنا ہی تو نہیں بھول رہے ہیں؟
پریشان حال والدین کی فریاد
حال ہی میں پیش آنے والے ایک واقعے نے مجھے گہرائی سے متاثر کیا۔
ایک صاحب اپنے دسویں جماعت میں زیر تعلیم بیٹے کے رویے سے شدید پریشان ہوکر مجھ سے ملنے آئے۔ بیٹے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ان کی آواز میں بے چینی اور چہرے پر بے بسی صاف نظر آرہی تھی۔ اپنی پریشانی بیان کرتے ہوئے ان کی حالت ایسی تھی کہ گویا ابھی رو پڑیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا پڑھائی میں دلچسپی کھوتا جارہا ہے۔ وہ ایک لڑکی کی محبت میں اس قدر گرفتار ہوچکا ہے کہ اس کے بغیر زندہ نہ رہنے جیسی باتیں کرتا ہے۔ گھر والوں کی بات نہیں سنتا اور انہیں سمجھ نہیں آرہا کہ اسے صحیح راستے پر کیسے لایا جائے۔
والدین کی باتیں سننے کے بعد میں نے اس طالب علم کے رویے پر توجہ دینی شروع کی۔ اسکول میں وہ اپنے ساتھی طلبہ کے ساتھ زیادہ گھلتا ملتا نہیں تھا۔ اکثر تنہا رہتا اور دوسرے بچوں کے ساتھ معمول کے مطابق میل جول رکھنے کے بجائے اپنی ہی دنیا میں گم دکھائی دیتا تھا۔
ایک دن دوسرے طلبہ سے معلوم ہوا کہ اس نے اپنے ہاتھ کو زخمی کرلیا ہے۔ معاملے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے میں نے اسے بلایا اور دوسروں کے سامنے شرمندگی سے بچانے کے لیے تنہائی میں اس سے گفتگو کی۔
اس گفتگو کے دوران مجھے اس کے دل میں چھپے درد، الجھن اور جذباتی کشمکش کی شدت کا اندازہ ہوا۔ بظاہر ایک عام طالب علم دکھائی دینے والے اس بچے کے اندر کئی ایسے مسائل تھے جن کا اسے کوئی حل نظر نہیں آرہا تھا۔ واضح ہوگیا کہ صورت حال سنگین مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔
اس طالب علم سے گفتگو کے بعد معلوم ہوا کہ اس کی پریشانی کی واحد وجہ محبت کی کشش نہیں تھی۔ اسے گھر والوں کی طرف سے جس جذباتی سہارے، کھل کر بات کرنے کے مواقع اور اس اعتماد کی ضرورت تھی کہ کوئی اس کی بات سنجیدگی سے سنے گا، وہ اسے مناسب حد تک میسر نہیں تھے۔
مجھے محسوس ہوا کہ والدین کی عدم توجہی اور بچے کی ذہنی کیفیت کو سمجھنے میں پیدا ہونے والا فاصلہ بھی صورت حال کو بگاڑنے کا سبب بنا تھا۔
یہاں ایک بات واضح کرنا ضروری ہے کہ بچوں کی ذہنی کیفیت کے لیے کسی ایک وجہ کو ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں۔ گھریلو ماحول، دوستیاں، ذاتی احساسات، اسکول کا دباؤ اور کئی دوسرے عوامل مل کر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ تاہم بچوں کے جذبات کو نظرانداز کرنا مسائل کو مزید سنگین بناسکتا ہے۔ اس واقعے نے مجھے ایک مرتبہ پھر اسی حقیقت کا احساس دلایا۔
اپنے بیٹے کے رویے کی شکایت لے کر آنے والے والدین کو اس کے اندر جاری جذباتی کشمکش کی شدت کا مکمل اندازہ نہیں تھا۔
یہی آج کے بہت سے خاندانوں کے سامنے ایک بڑا چیلنج ہے۔
محبت غلط نہیں، لیکن محبت ہی پوری زندگی نہیں
نوجوانی کی عمر میں کسی کا اچھا لگنا، کسی سے بات کرنے کی خواہش پیدا ہونا، اس کے پیغام کا انتظار کرنا یا اس کی توجہ اور پسندیدگی حاصل کرنے کی تمنا رکھنا فطری جذبات ہیں ، میں یہاں جواز اور عدمِ جواز پر بات نہیں کررہا ہوں لیکن اس کو زندگی کا آخری مقصد بنالینا، کسی کی طرف سے انکار ہونے پر زندگی ختم ہوجانے جیسا رویہ اختیار کرنا یا پڑھائی اور خاندانی ذمہ داریوں کو مکمل طور پر نظرانداز کردینا خطرناک ہوسکتا ہے۔
بچوں کو محبت اور محض کشش کے درمیان فرق سمجھانا چاہیے۔ انہیں رشتوں میں باہمی احترام، شخصی حدود اور دوسرے کے فیصلے کا احترام کرنے کی تربیت دینی چاہیے۔
زندگی میں کسی رشتے کی اہمیت اپنی جگہ ہوسکتی ہے، لیکن خود زندگی کی قدر و قیمت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ بچوں کے اندر یہ شعور پیدا کرنا ضروری ہے۔
والدین کو ایسے موضوعات پر بچوں سے گفتگو کرنے میں جھجک محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ ڈانٹ ڈپٹ، دھمکی اور توہین کے ذریعے بچے اپنے دل کی بات نہیں بتاتے، بلکہ اسے چھپانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔
بعض اوقات جب تک والدین کو ان کے مسائل کا علم ہوتا ہے، صورت حال قابو سے باہر ہوچکی ہوتی ہے۔
بچوں کو قصوروار ٹھہرانا مسئلے کا حل نہیں
بچے غلطی کریں تو ان سے سوال کرنا ضروری ہے، لیکن ہر موقع پر انہیں قصوروار ٹہرانا مسئلے کا حل نہیں۔
’’تم ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہو۔‘‘
’’تم سے زندگی میں کچھ نہیں ہوسکتا۔‘‘
’’پڑوسی کے بیٹے کو دیکھو، کتنا اچھا پڑھتا ہے!‘‘
اس طرح کے جملے بچوں میں احساس کمتری پیدا کرسکتے ہیں۔
دوسرے بچوں سے موازنہ بعض بچوں میں مقابلے کا جذبہ پیدا کرسکتا ہے، لیکن کچھ بچے یہ محسوس کرکے والدین سے دور ہوسکتے ہیں کہ انہیں کوئی سمجھتا ہی نہیں۔
ہر بچے کی صلاحیت، دلچسپی اور نشوونما کی رفتار مختلف ہوتی ہے۔ دوسرے بچوں سے موازنہ کرنے کے بجائے اپنے بچے کی گزشتہ اور موجودہ کارکردگی میں ہونے والی تبدیلی کو دیکھنا زیادہ فائدہ مند ہے۔
جب بچوں کے رویے میں تبدیلی نظر آئے تو سب سے پہلے ان کے ساتھ کھل کر بات کرنی چاہیے۔ ان کی گفتگو درمیان میں روک کر نصیحتیں شروع کرنے کے بجائے صبر سے سننا چاہیے۔
اگر انہوں نے غلطی کی ہے تو اس کے نتائج سمجھانے چاہئیں اور ساتھ ہی انہیں اپنی اصلاح کا موقع بھی دینا چاہیے۔
بچوں کو ڈرا کر خاموش تو کیا جاسکتا ہے، لیکن ان کے ذہنی مسائل اس طرح حل نہیں کیے جاسکتے۔
کھل کر گفتگو کرنے سے مسئلے کی اصل وجہ معلوم ہوسکتی ہے۔ اعتماد کا رشتہ قائم ہونے پر ہی بچے اپنی پریشانیاں، غلطیاں، الجھنیں اور دکھ والدین کے سامنے بیان کرنے کی ہمت کرتے ہیں۔
اسکولوں میں ماہر مشیروں کی ضرورت
آج بچوں کے نصاب میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ امتحانات کا دباؤ، مقابلے کی دوڑ، مستقبل کی فکر، دوستیوں کی الجھنیں اور سوشل میڈیا کے اثرات کے درمیان بچوں کی جذباتی اور ذہنی صحت پر بھی توجہ دینا ضروری ہوگیا ہے۔
اساتذہ بچوں کے رویوں میں تبدیلی کو محسوس کرسکتے ہیں، لیکن ہر استاد کے پاس ذہنی صحت کے مسائل کو پہچاننے اور ان سے نمٹنے کی خصوصی تربیت نہیں ہوتی۔
اسی لیے اسکولوں میں تربیت یافتہ ماہر مشیروں یعنی کونسلرز کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
حالیہ برسوں میں بعض بڑے شہروں کے اسکولوں میں کونسلرز مقرر کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ یہ سہولت تمام اسکولوں تک پہنچنی چاہیے۔
حکومت کو چاہیے کہ دوسرے مضامین کے اساتذہ کی طرح اسکولوں میں بھی ضروری قابلیت اور تربیت رکھنے والے ماہر کونسلرز کی تقرری کو ترجیح دے۔
اسکول کے حجم اور طلبہ کی تعداد کے مطابق کونسلرز مقرر کرنے کا نظام بنایا جانا چاہیے۔
کونسلنگ صرف اسی وقت نہیں ہونی چاہیے جب کوئی بچہ کسی پریشانی میں مبتلا ہو بلکہ بچوں کی جذباتی نشوونما پر باقاعدہ نظر رکھنے کا انتظام بھی ہونا چاہیے۔
بچوں سے انفرادی گفتگو کرنا، والدین کی رہنمائی کرنا، اساتذہ کو تربیت دینا اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ ماہرین کی مدد فراہم کرنا کونسلرز کی ذمہ داریوں میں شامل ہونا چاہیے۔
یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ مسلسل کونسلنگ سے ہر مسئلہ مکمل طور پر حل ہوجائے گا، لیکن اس نظام کے ذریعے مسائل کو ابتدائی مرحلے میں پہچاننے، بچوں کو اپنے جذبات کے اظہار کا موقع دینے اور مناسب مدد فراہم کرنے میں بڑی آسانی ہوسکتی ہے۔
اگر کسی بچے میں خود کو زخمی کرنے، زندہ نہ رہنے کی خواہش ظاہر کرنے یا شدید مایوسی کی علامات نظر آئیں تو اسے محض نوجوانی کی ضد سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
ایسی صورت میں والدین اور اسکول کے ذمہ داران کو فوری توجہ دیتے ہوئے مستند ذہنی صحت کے ماہرین سے مدد حاصل کرنی چاہیے۔
اگر فوری خطرہ محسوس ہو تو بچے کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے، بلکہ اس کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے ہنگامی مدد فراہم کرنی چاہیے۔
موبائل کی اسکرین سے باہر بھی ایک دنیا ہے
آج بہت سے بچوں کی پوری دنیا ان کے ہاتھ میں موجود موبائل کی اسکرین تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔
وہ سوشل میڈیا پر دوسروں کی زندگی دیکھ کر اپنی زندگی کا موازنہ کرتے ہیں۔ کسی دوست کے پاس مہنگا موبائل ہو تو خود بھی ویسا ہی موبائل چاہتے ہیں۔ کوئی ان کے پیغام کا جواب نہ دے تو اسے بہت بڑا مسئلہ سمجھ لیتے ہیں۔
بعض اوقات سوشل میڈیا پر ملنے والی تعریف اور توجہ کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینے لگتے ہیں۔
اس مسئلے کا حل صرف بچوں سے موبائل چھین لینا نہیں ہے۔
موبائل کے استعمال کے لیے واضح حدود مقرر ہونے چاہئیں اور گھر کے تمام افراد کو ان کی پابندی کرنی چاہیے۔
بچوں کو کھیل کود، مطالعے، فنون لطیفہ، سیر و تفریح اور دوستوں سے براہ راست ملاقات کے مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔
اگر موبائل کا استعمال نیند، پڑھائی یا خاندانی تعلقات کو متاثر کررہا ہو تو اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
بچوں کو آزادی کی ضرورت ہے، لیکن آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی ضروری ہے۔ وہ کہاں جاتے ہیں، کب گھر لوٹتے ہیں اور کن لوگوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، ان تمام معاملات پر باہمی اعتماد کی بنیاد پر گفتگو ہونی چاہیے۔ ان کے ہر قدم کو شک کی نگاہ سے دیکھنا درست نہیں، لیکن کسی حد اور پابندی کے بغیر مکمل آزادی دے دینا بھی دانش مندی نہیں۔
بچوں کے لیے وقت نکالیے
بچوں کی پرورش صرف انہیں اسکول میں داخل کرانے، فیس ادا کرنے، کپڑے اور موبائل فراہم کرنے کا نام نہیں۔
وہ کیا سوچتے ہیں، کس بات سے ڈرتے ہیں، کن چیزوں سے خوش ہوتے ہیں اور کن مسائل کا سامنا کررہے ہیں، یہ جاننا بھی والدین کی ذمہ داری ہے۔
روزانہ کچھ وقت کے لیے موبائل ایک طرف رکھ کر بچوں سے بات کی جاسکتی ہے۔
ان سے پوچھا جاسکتا ہے کہ ان کا دن کیسا گزرا۔ وہ جو کچھ بتائیں، اسے صبر سے سنا جاسکتا ہے۔
انہیں گھر کے کاموں میں شریک کیا جاسکتا ہے اور خاندانی فیصلوں میں ان کی رائے کو بھی اہمیت دی جاسکتی ہے۔
ساتھ ہی گھر کے اصولوں اور ذمہ داریوں کے بارے میں واضح رہنمائی بھی ہونی چاہیے۔
جب بچے غلطی کریں تو ان کی شخصیت کو نشانہ بنانے کے بجائے ان کے رویے کے نتائج سمجھانے چاہئیں۔
انہیں غلطی تسلیم کرنے اور اس کی اصلاح کا موقع دینا چاہیے۔
ممکن ہے ہم بچوں کو دنیا کی ہر چیز فراہم نہ کرسکیں، لیکن انہیں ان کی بات سننے والے کان، مشکل وقت میں سہارا دینے والا دل اور غلطی کے وقت صحیح راستہ دکھانے والا صبر ضرور دے سکتے ہیں۔
سولہ سال کی عمر میں بچے دنیا فتح کرنے کے خواب دیکھتے ہیں۔ ان خوابوں کو پرواز دینا والدین کی ذمہ داری ہے، لیکن اس پرواز کو عقل و دانش کی قوت فراہم کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
اگر بچوں کو ہر وقت اپنے قابو میں رکھا جائے تو وہ آزادانہ سوچنا نہیں سیکھ پائیں گے۔ اور اگر انہیں مکمل طور پر ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے تو صحیح اور غلط کے درمیان فرق سمجھانے والا کوئی نہیں رہے گا۔
گزشتہ تیس برسوں کی تعلیمی خدمات کے تجربے نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ بچوں کے رویوں کے پیچھے موجود اسباب کو سمجھے بغیر صرف سزا دینے سے مطلوبہ تبدیلی لانا مشکل ہے۔
بچے غلطی کریں تو ان کی اصلاح ضروری ہے، لیکن جب وہ کسی مشکل میں ہوں تو ان کا ہاتھ تھامنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔
والدین، اساتذہ اور کونسلرز مل کر کام کریں تو ہی بچوں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کیا جاسکتا ہے۔
سولہ سال کی عمر دوبارہ نہیں آتی۔
یہ بچوں کی زندگی اور والدین کی یادوں میں ہمیشہ باقی رہنے والا ایک قیمتی دور ہے۔
اس عمر میں بچوں کی خوشیاں اور شوخیاں گھر والوں کی نیندیں اڑانے والی پریشانی نہ بنیں، بلکہ ان کے روشن مستقبل کی بنیاد بننے والے تجربات ثابت ہوں۔
آئیے! سولہ سال کی عمر میں بچوں کی پرواز میں رکاوٹ بننے کے بجائے انہیں صحیح سمت دکھانے والا چراغ بنیں۔ ان کی خاموشی کے پیچھے چھپے درد کو سنیں اور سمجھیں۔
زندگی میں خوشیاں بکھیرنے والی یہ خوب صورت عمر خود بچوں اور ان کے عزیزوں کے لیے بوجھ نہ بن جائے!




