مولانا امین الدین شجاع الدین ندوی
فارسی کے مشوہر شاعر مرزا بیدلؔ کی خدت میں دور دراز سے ایک وفد عقیدت مندانہ حاضر ہوا ، دیکھا کہ مرزا داڑھی منڈوارہے ہں، وفد کے سربراہ نے حیرت و استعجاب سے عرض کیا۔ ’’مرزا آپ بھی داڑھی منڈواتے ہیں‘‘ مرزا نے شوخی سے جواب دیا ’’ہاں داڑھی منڈوتا ہوں ، کسی کا دل نہیں دُکھاتا‘‘ بیدلؔ کا مخاطب بھی شاید کوئی صاحبِ دل ہی رہا ہو نہایت عاجازی اور بڑی دردمندی سے وہ بیدلؔ سے مخاطب ہوئے اور کہا ہاں، ہاں! آپ کسی کا دل نہیں دُکھاتے لیکن داڑھی منڈواکر اور سنت کو ڈھاکراپنے سولؐ کے دل پہ آرے تو ضرور چلاتے ہیں!!‘‘
دل سے نکلی یہ بات بیدلؔ کے دل پر گری لیکن بجلی بن کرنہیں ابرِ رحمت بن کر ۔ اور انہیں پانی پانی کرگئی ، حاضر جوابی اور شوخی کی جگہ ندامت و شرمندگی نے لے لی اور اس نے بیدلؔ کو ایسا بیکل کردیا کہ داڑھی نہ منڈوانے کا فیصلہ کیے بغیر انہیں چین نہ آیا۔
بیدلؔ کے اس واقعہ کو ذرا ایک بار پھر پڑھیے ، بیدلؔ کی یہ بات اگر ہمارے دل پر اثر انداز نہ ہو تو ہمیں خود کے ’’ بے دل ‘‘ ہونے پر شبہ نہ ہونا چاہیے!!
اب ذرا دل تھام کر اس بات کا تصور تو کیجیے کہ ہمارے اعمال خیرالانامؐ کے سامنے پیش ہیں۔ الا ماشاء اللہ اعمال کی اس گٹھری میں کیا کچھ نہیں ہے۔ چھوٹ ، غیبت ، خیانت ، حسد ، بغض ، عداوت ، بہتان تراشی ، دلآزاری ، نہ ہماری زبانوں سے کوئی محفوظ نہ ہمارے ہاتھوں سے کوئی مامون۔ حقوق اللہ ہوں یا حقوق العباد ۔ دونوں کی حق تلفی اور دونوں شکوہ سنج! ان کرتوتوں کا احاطہ کیوں کر ممکن ہو اور اس کے بیان کی تاب قلم کہاں سے لائے۔ اقبال نے اس صورتِ حال کی تصویر کھینچی تھی ۔ ’’ یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائے یہود‘‘ ایسے اعمال و کردار کو دیکھ کر رسول اللہ کے دل پر کیا کچھ نہ گزرتی ہوگی!! اور شفیعِ اعظمؐ کے دل پر کیسے چوٹ پڑتی ہوگی۔
کسی بدبخت کی جانب سے رسول اللہ کی شان میں گستاخی کرنے پر ہماری غیرت جوش میں آجاتی ہے اور بلاشبہ اسے جوش میں آنا ہی چاہیے۔ حضرت امام مالکؒ سے خلیفہ ہارون رشید نے اہانتِ رسول کا ارتکاب کرنے والوں کے بارے میں دریافت کیا تھا تو انہوں نے جواب میں فرمایا تھا کہ اس ملت کی زندگی کیا ہے جس کے پیغمبر کو گالیاں دی جائیں۔ اہانتِ رسول کو برداشت کرنا جرمِ عظیم اور ایمان کے عین منافی! لیکن خدارا اس حقیقت پر بھی تو ٹھنڈے دل سے غور کیجیے کہ رسول اللہ کا دل دکھانے کے مجرم ہم بھی تو ہیں!! بس اس فرق کے ساتھ گستاخانِ رسولؐ زبان وقلم سے اس جرم کا ارتکاب کرتے ہیں اور ہم اپنی غفتلوں اور اس سے آگے بڑھ کر بداعمالیوں سے رسول اللہ ﷺ کے لیے قلبی اذیت کا باعث بنتے ہیں۔ پھر ہمیں خود اپنے اوپر غصہ کیوں نہیں آتا۔
رسول اللہ ﷺ اس اذیت کے پہونچانے سے بچ جانے کی کوئی تدبیر بھی آپ کے ذہن میں آتی ہے؟ کون نہیں جانتا کہ آپ کو خراجِ عقیدت کے ساتھ ساتھ خراجِ اطاعت اور خراجِ اتباع پیش کرنا ہی اس مسئلہ کا حل ہے۔ لیکن سوال اس کا ہے کہ اپنے پرانے پاپی من کو کس طرح اس طرف راغب کیا جائے اور غفلتوں کے عادی اندرون کو کس طرح خیر کی طرف مائل کیا جائے۔ خوفِ خدا ، آخرت میں باز پُرس ، جنت کی نعمتیں ، دوزخ کی اذیتیں ، دنیا یں بھی اچھے اعمال پر رب کریم کا فضل و عنایت اور برے اعمال پر یہاں بھی پکڑوگرفت۔ اس طرح کے عقائد اور احساسات حضرتِ انسان کے اعمال پر اثر انداز ہوتے رہے ہیں ۔ جن خوش نصیبوں کو اس کا تجربہ ہے وہی اس کی لذت محسوس کرسکتے ہیں کہ ان احساسات کی بدولت کس طرح انہوں نے بدیوں کو شکست دی اورکس طرح ان پر نیکیوں کے دروازے کھلتے چلے گئے۔
اعمال پر اثر انداز ہونے والے عوامل و محرکات میں اس احساس کو بھی شامل کرلیجیے ہمارے اعمال رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں جس امت کے لیے آپ ﷺ نے پتھر بھی کھائے ہیں اور پیٹ پر پتھر بھی باندھے ، اب اس امت کے فرد ہونے کے ناطے فیصلہ خود کیجیے ہمارے اعمال رسول اللہ ﷺ کے لیے رحت کا باعث بنیں یا خدانخواستہ اذیب و تکلیف کا۔ بھلا کون بدبخت ہوگا جو اپنے رسولﷺ کو اذیب پہونچانے کا تصور بھی کرسکے گا۔
روز مرہ کی زندگی میں اخلاقی قدروں کے زوال کے باوجود آج بھی یہ پاس و لحاظ دیکھنے کو مل جاتا ہے کہ ہماری کسی کوتاہی یا لغزش کا علم کسی ایسی شخصیت کو نہ ہونے پائے جس سے ہمارا عقیدت ومحبت کا تعلق ہے۔ کیا رسول مقبول کی ذات اقدس سے بڑھ کر بھی عقیدت و محبت کا حقدار کوئی ہوسکتا ہے۔ تر پھر اس سلسلہ میں کوتاہی کیسی؟ خدا کا شکر ہے کہ اپنے رسول سے محبت تو اس امت کا طرۂ امتیاز ہے یہاں تک کہ ایک فاسق و فاجر مسملمان کا دل بھی محبت و عشقِ رسول سے خالی نہیں ہے۔ لیکن بس خامی یہ ہے کہ ہمارے اعمال محبتِ رسول کے تقاضوں سے خالی ہیں۔
’’رسول کا دل دکھانے کے مجرم ہم بھی تو ہیں‘‘ کا احساس اپنے اندر جگایے ، اس صورتحال کو بدل دینے کا فیصلہ کیجیے اور پھر اس کے ثمرات وبرکات دیکھیے کہ یہ احساس کس طرح ہمارے لیے ’’ ریمورٹ کنٹرول‘‘ کا کام دے گا اور ہمیں نیکوں سے رغبت اور برائیوں سے نفرت دلانے کا موجب بنے گا۔ جس لحمہ یہ احساس ہم میں جاگ انٹھاے گا ہم بھی مرزا بیدلؔ کی طرح بیکل ہو تو دل کی کایا پلٹ جانے اور من کی دنیا بدل جانے میں انشاء اللہ دیر نہ لگے گی۔
مأخوذ : تعمیرحیات 25 جنوری 2003




