مقبوضہ مغربی کنارے میں امریکی صحافی اور یورپی سفارت کاروں پر آبادکاروں کے حملے، عالمی دباؤ کے بعد ۱۰؍ افراد گرفتار

مقبوضہ مغربی کنارے میں انتہا پسند یہودی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے پرتشدد حملوں کے دوران ایک امریکی فوٹو جرنلسٹ اور متعدد یورپی سفارت کاروں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد بین الاقوامی سطح پر شدید غم و غصہ پھیل گیا ہے۔ واشنگٹن اور یورپی دارالحکومتوں کی جانب سے سخت سفارتی دباؤ اور فوری کارروائی کے مطالبات کے بعد اسرائیلی پولیس، فوج اور داخلی سلامتی کے ادارے شن بیت نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے دس مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ یہ کارروائی علی الصباح انجام دی گئی، جس میں ملوث افراد پر پرتشدد اقدامات، فوجی احکامات کی خلاف ورزی اور غیر قانونی بستیوں کے قیام جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

پرتشدد کارروائیوں کا آغاز جمعہ کے روز ہوا جب واشنگٹن پوسٹ کی معروف فوٹو جرنلسٹ ہیدی لیوائن فلسطینی کسانوں کے روایتی زیتون کی فصل کی کٹائی کے کام کی کوریج کر رہی تھیں۔ نقاب پوش انتہا پسند آبادکاروں کے ایک جتھے نے پتھراؤ اور غلیلوں کے ذریعے ان پر وحشیانہ حملہ کیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئیں اور بعد ازاں انہیں ایک انگلی کی سرجری کے لیے اسپتال منتقل کرنا پڑا۔ اگلے ہی روز ہفتے کو ایک اور مقام پر فرانس، بیلجیم اور پولینڈ کے اعلیٰ سفارت کاروں اور فرانسیسی میئر پر مشتمل وفد کو بھی نقاب پوش عناصر نے نشانہ بنایا، جبکہ بیلجیم کی ایک سفارتی گاڑی پر حملہ کر کے اسے شدید نقصان پہنچایا گیا۔

اس واقعے پر اسرائیل کے سب سے بڑے حلیف امریکہ نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ دار عناصر کے خلاف فوری اور شفاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ فرانس، بیلجیم اور پولینڈ نے بھی مشترکہ طور پر تل ابیب سے سفارتی عملے اور شہریوں کے تحفظ کی ضمانت طلب کی۔ پولیس کی جانب سے جاری کردہ کارروائی کے مناظر سے واضح ہوتا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد نے مخصوص مذہبی دھاگے یعنی تزتزیت پہن رکھے تھے اور ان کے قبضے سے پتھراؤ کے لیے استعمال ہونے والی غلیلیں بھی برآمد ہوئیں، جو کٹائی میں مصروف نہتے فلسطینیوں اور غیر ملکی مبصرین کو خوفزدہ کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔

فلسطینیوں کی اراضی پر قابض عناصر کے خلاف روایتی طور پر قانونی کارروائی نہ ہونے کے برابر رہی ہے، تاہم سفارتی نمائندوں کے براہ راست زد میں آنے سے صورتحال سنگین ہو گئی ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر اور فوج کے ترجمانوں نے اس حرکت کو بلوائیوں کا شرپسندانہ عمل قرار دیا، جبکہ دوسری جانب وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے اپنے مذہبی قوم پرست سیاسی حلیفوں کو ناراض نہ کرنے کی غرض سے مبہم مؤقف اپنایا اور سفارت کاروں پر بغیر فوجی اجازت کے حساس علاقے میں جانے کا الزام لگانے کی کوشش کی۔ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے البتہ اس واقعے پر معذرت کرتے ہوئے حملے کو ملکی اصولوں کے خلاف قرار دیا۔

مقبوضہ فلسطینی اراضی پر انسانی حقوق کی بحرانی کیفیت زیتون کی فصل کی کٹائی کے دوران ہر سال بدترین شکل اختیار کر لیتی ہے۔ مقامی حقوق انسانی کی تنظیم یش دین کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، گزشتہ چند ہفتوں کے دوران فلسطینیوں، بین الاقوامی مانیٹرز اور میڈیا نمائندوں پر آبادکاروں کے پرتشدد حملوں کے کم از کم ایک سو ستر واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ یہ منظم حملے فلسطینیوں کو ان کی آبائی زمینوں سے بے دخل کرنے اور زراعت پر مبنی معاشی ذرائع کو تباہ کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔

عالمی برادری اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں نے واضح کیا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں صحافیوں، انسانی ہمدردی کے کارکنوں اور سفارت کاروں پر حملے بین الاقوامی کنونشنز کی کھلی پامالی ہیں۔ گرفتار کیے گئے دس افراد کے خلاف شفاف عدالتی کارروائی اور ان پر عائد الزامات کی آزادانہ سماعت کو عالمی سطح پر بطور ٹیسٹ کیس دیکھا جا رہا ہے، جس سے یہ طے ہوگا کہ آیا آبادکاروں کے خلاف قانون کا حقیقی نفاذ ممکن ہے یا یہ محض سفارتی دباؤ کم کرنے کی عارضی کوشش ہے۔

شیئر کریں۔