نیتن یاہو کا بھارت اور لاطینی امریکی ممالک کے ساتھ نیا اتحاد قائم کرنے پر زور : امریکی حمایت پر انحصار ختم کرنے کی تیاری،

اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں واشنگٹن کے اندر کوئی اسرائیل مخالف صدر برسرِ اقتدار آ سکتا ہے، اس لیے اسرائیل کو اپنی پوزیشن مستحکم رکھنے کے لیے بھارت اور لاطینی امریکی ممالک کے ساتھ نئے اور کثیر الجہتی تزویراتی اتحاد قائم کرنے چاہئیں۔ ستائیس اکتوبر کو ہونے والے اسرائیلی پارلیمانی انتخابات سے محض نو دن قبل اپنا نیا سکیورٹی نظریہ پیش کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ ملک کو روایتی امریکی امداد پر مکمل انحصار کے بجائے عالمی سطح پر شراکت داری کے دائرے کو وسعت دینی ہوگی۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے عوامی سطح پر نیتن یاہو کی انتخابی مہم کی بھرپور تائید کا اعلان کیا ہے۔

نیتن یاہو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ دو سال کے عرصے میں اگر وائٹ ہاؤس میں کوئی ایسی قیادت آ جائے جو اسرائیل کے موجودہ مؤقف کی شدید مخالف ہو تو تل ابیب اس سے کیسے نمٹے گا اور امریکی پالیسی کے ممکنہ تغیر کا کیا متبادل ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل کو ڈونالڈ ٹرمپ کے موجودہ دورِ صدارت کے باقی ماندہ وقت سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے اور ساتھ ہی امریکی سیاسی منظرنامے میں آنے والی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنے کی مکمل تیاری کرنی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے اور عالمی سطح پر نئی صف بندیاں ہی تل ابیب کو طویل المدتی سفارتی تنہائی سے نکال سکتی ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے خاص طور پر نئی دہلی کے ساتھ اپنے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کوئی چھوٹا ملک نہیں ہے بلکہ ایک بڑی طاقت ہے جس کے ساتھ تل ابیب کے خصوصی اور مضبوط مراسم استوار ہیں۔ نیتن یاہو اکثر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ اپنی ذاتی قربت کو پیش کر کے یہ دلیل دیتے رہے ہیں کہ طویل جنگ اور سفارتی تنقید کے باوجود اسرائیل دنیا میں اکیلا نہیں ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے برازیل اور لاطینی امریکہ میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کو بھی تل ابیب کے لیے نئے شراکت دار تلاش کرنے کا موزوں موقع قرار دیا تاکہ سکیورٹی اور سفارتی محاذ پر اسرائیل کی اہمیت مسلمہ رہے۔

ماہرینِ بین الاقوامی امور کا تجزیہ ہے کہ امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی اور بائیں بازو کے حلقوں میں نیتن یاہو کی پالیسیوں کے خلاف گہری بیزاری پائی جاتی ہے۔ سابق صدور بارک اوباما اور جو بائیڈن کے ادوار میں بھی امریکی انتظامیہ اور نیتن یاہو حکومت کے درمیان شدید اختلافات رہے تھے، جنہیں نیتن یاہو نے اپنی ملکی انتخابی مہمات میں طاقتور رہنما کے طور پر پیش کیا تھا۔ موجودہ حالات میں جب مشرق وسطیٰ میں جنگی کارروائیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بین الاقوامی اداروں اور دنیا بھر کی رائے عامہ میں اسرائیل کے خلاف غصہ بڑھ رہا ہے، نیتن یاہو ایشیائی اور لاطینی ممالک کے ساتھ نئے معاہدوں کی بات کر کے داخلی اور خارجی دباؤ کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کے سب سے بڑے حریف اور سابق آرمی چیف گاڈی آئزن کوٹ نے اس سکیورٹی نظریے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے محض ایک کھوکھلی سیاسی چال قرار دیا ہے۔ انہوں نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تین سالوں کی تباہ کن اسٹریٹجک ناکامیوں اور متعدد محاذوں پر لڑی جانے والی جنگ کے درمیان نیتن یاہو کا نعروں سے بھرپور دستاویز پیش کرنا عوام کے ساتھ مذاق ہے۔ آئزن کوٹ کے مطابق یہ دستاویز کسی سنجیدہ قومی سلامتی کے منصوبے کے بجائے عوام میں خوف پیدا کر کے ووٹ بٹورنے اور اپنی سیاسی و فوجی ناکامیوں سے دھیان ہٹانے کی پرانی کوشش ہے۔

اسرائیلی سیاست میں اس نئی بحث کے آغاز کے بعد مبصرین کا خیال ہے کہ آئندہ انتخابات نہ صرف ملک کے سیاسی مستقبل بلکہ مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے کے خطوں کے ساتھ تل ابیب کے تعلقات کا تعین بھی کریں گے۔

شیئر کریں۔