ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی عروج پر

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی عسکری دھمکیوں پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے واشنگٹن کو کسی بھی نئی مہم جوئی سے باز رہنے کا انتباہ دیا ہے۔ تہران کی جانب سے یہ سخت موقف اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے انتخابی ماحول کے دوران ایران کے خلاف جارحانہ بیانات داغے اور نیتن یاہو کی کھلی حمایت کی۔ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں واضح کیا کہ ماضی کے دباؤ کے باوجود ایران مزید طاقتور بن کر ابھرا ہے اور اگر امریکہ نے دوبارہ وہی غلطی دہرائی تو اس کے نتائج پہلے سے زیادہ خطرناک ہوں گے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں لکھا کہ گزشتہ بار جب امریکی قیادت نے ایران کا کام تمام کرنے کی بات کی تھی تو تہران اپنے دفاعی نظام اور خود انحصاری کو مضبوط تر بنانے میں کامیاب رہا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اگر واشنگٹن دوبارہ اپنی قسمت آزمانا چاہتا ہے تو آزما لے، لیکن یاد رکھے کہ ایران کے بھی کچھ حساب کتاب ابھی باقی ہیں۔ عباس عراقچی کے مطابق عسکری دھمکیاں دے کر تہران کو اس کے اصولی اور قانونی حقوق سے دستبردار نہیں کرایا جا سکتا۔

اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو پر بھی براہ راست نشانہ سادھا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم اپنے خلاف جاری عدالتی کارروائیوں، بدعنوانی کے مقدمات اور جیل جانے کے خطرے سے بچنے کے لیے خطے کو شعلوں کی نذر کرنا چاہتے ہیں۔ عراقچی نے تنبیہ کی کہ نیتن یاہو اپنی ذاتی اور سیاسی بقا کی خاطر امریکہ کو ایک اور تباہ کن جنگ کی دلدل میں گھسیٹنے کی دانستہ سازش کر رہے ہیں، جس کا خمیازہ نہ صرف خطے بلکہ خود واشنگٹن کو بھی بھگتنا پڑے گا۔

تہران کا یہ سخت موقف ڈونالڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ایران کی معاشی اور فوجی صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ ٹرمپ نے اسرائیلی پارلیمانی انتخابات کے تناظر میں نیتن یاہو کی تعریفوں کے پل باندھے تھے اور دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے اپنی حکمت عملی تبدیل نہ کی تو اس کے خلاف فیصلہ کن قدم اٹھایا جائے گا۔ اس کے جواب میں نیتن یاہو نے بھی ٹرمپ کی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مشترکہ مشن جاری رکھنے کی بات کہی تھی۔

مبصرین کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں انتخابی مہمات اور سیاسی مفادات کے تحت دی جانے والی یہ دھمکیاں پورے خطے کے امن و امان کو پٹری سے اتار سکتی ہیں۔ مسلم ممالک اور بین الاقوامی فورمز پر ایسی اشتعال انگیزی کے خلاف شدید تشویش پائی جا رہی ہے، کیونکہ اس قسم کا غیر سفارتی رویہ کشیدگی کو ہوا دیتا ہے اور بین الاقوامی سفارتی ضوابط کو نقصان پہنچاتا ہے۔

ایران نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ خودمختاری، باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی بنیاد پر ہی کسی مکالمے کے لیے آمادہ ہے، لیکن کسی بھی براہ راست دباؤ یا جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں خطے کی صورتحال دونوں جانب سے بڑھتے ہوئے بیانات اور تزویراتی اقدامات کے باعث مزید حساس رخ اختیار کر سکتی ہے۔

شیئر کریں۔