سوربھ داس اور آشوتوش رانکا مجسٹریٹ کے روبرو پیش، پولس کی عدالتی تحویل میں توسیع کی مانگ

قومی دارالحکومت نئی دہلی کے مندر مارگ تھانے میں پیر کے روز کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے رہنماؤں سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کو نو تعینات اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا۔ دہلی پولیس نے سماعت کے دوران دونوں سیاسی کارکنوں کی عدالتی تحویل میں مزید توسیع کی درخواست کی ہے۔ یہ قانونی پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب سی جے پی کی جانب سے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ ان کے رہنماؤں کی رہائی کو روکنے کے لیے ضمانت کے عمل میں دانستہ طور پر تاخیر برتی جا رہی ہے۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق، سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کو تیرہ اکتوبر کو جنتر منتر کے باہر احتجاج کے دوران تحویل میں لیا گیا تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین مقفل گیٹ پار کر کے اس احاطے میں داخل ہوئے جسے پہلے ہی مخصوص احتجاجی مقام کے طور پر ڈی نوٹیفائی کیا جا چکا تھا۔ پولیس کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے دیگر کارکنان کے ہمراہ قومی پرچم لہراتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف نعرے بازی کی، جس کے بعد امن و امان کے نام پر انہیں حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا اور بعد ازاں مجسٹریٹ نے انہیں پانچ روزہ عدالتی تحویل میں بھیج دیا تھا۔

اس مقدمے میں اس وقت نیا موڑ آیا جب اتوار کے روز ضمانت کی درخواست پر سماعت کرنے والے سابقہ مجسٹریٹ نے نامعلوم افراد کی جانب سے دھمکیاں ملنے کا دعویٰ کیا، جس کے بعد پولیس نے اس واقعے پر نان کاگنیزیبل رپورٹ (این سی آر) درج کر کے سماعت کے لیے نیا مجسٹریٹ تعینات کیا۔ سی جے پی قیادت کا مؤقف ہے کہ انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے طریقہ کار کو الجھا کر پرامن احتجاج کے جمہوری حق کو دبایا جا رہا ہے اور رہنماؤں کو ضمانت کے قانونی حق سے محروم رکھنے کے حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

دارالحکومت میں احتجاج کے مقامات پر سخت پابندیوں اور اپوزیشن و سول سوسائٹی کے خلاف قانونی دفعات کے نفاذ پر عوامی و سیاسی حلقوں میں مسلسل تشویش پائی جاتی ہے۔ انسانی حقوق کے نگراں اور سول رائٹس کے حامی حلقے اس نوعیت کے اقدامات کو جمہوری آزادیوں اور پرامن شہری احتجاج کے بنیادی اصولوں کے منافی قرار دے رہے ہیں۔ اس معاملے میں انتخابی ادارے کی غیر جانبداری پر سوال اٹھانے والے مظاہرین کے خلاف کارروائی نے سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ کر دیا ہے۔

عدالتی تحویل میں توسیع سے متعلق پولیس کی درخواست پر اب مجسٹریٹ کے فیصلے کا انتظار ہے، جبکہ دفاعی وکلاء ضمانت کی فوری منظوری کے لیے قانونی کارروائی آگے بڑھا رہے ہیں۔

شیئر کریں۔