قومی دارالحکومت نئی دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے دو سرکردہ رہنماؤں سورو داس اور آشوتوش رانکا کو جنتر منتر کے احاطے میں داخل ہونے اور امن معاہدے کی خلاف ورزی کے الزام میں پانچ روزہ عدالتی تحویل کے تحت تہاڑ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسی معاملے میں نامزد تیسرے رہنما اجنکیا شندے کو پانچ ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے اور آئندہ چھ ماہ تک امن و امان قائم رکھنے کی شرط پر رہا کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب مظاہرین نے تاریخی احتجاجی مقام پر پہنچ کر اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کرنے کی کوشش کی۔
سی جے پی رہنماؤں کی گرفتاری اور انہیں جیل بھیجے جانے کے فوری بعد ملک کے سیاسی حلقوں میں شدید بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے حکومتی اقدام کی پرزور مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوری اور آئینی حقوق پر حملہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پرامن مظاہرے کے دوران قومی پرچم لہرانا ہرگز جرم نہیں ہو سکتا اور پرامن نوجوانوں کو پابند سلاسل کرنا سنگین آمرانہ رویہ ہے۔ قائد حزب اختلاف کے مطابق جنتر منتر عوامی اظہار رائے کا ایک تاریخی مرکز رہا ہے جسے چھینا نہیں جا سکتا۔
دفاعی وکلا نے پولیس کی جانب سے پیش کردہ استدلال کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے عدالت کے باہر الزامات پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ رہنماؤں کے وکیل ابھشٹ ہیلا نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے محض اس شبہے پر کارروائی کی کہ ملزمان امن میں خلل ڈال سکتے ہیں، جبکہ ان کی طرف سے عوام کو جمع کرنے یا کسی قسم کے فساد برپا کرنے کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ ضمانتی بانڈ کی کسی شرط کی خلاف ورزی نہیں ہوئی اور کناٹ پلیس سے متعلق ایک الگ معاملے کا حوالہ دے کر حراست کو طول دیا گیا ہے۔
تنظیم کے قانونی شعبے نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ حراست کے ابتدائی مراحل میں زیر حراست رہنماؤں کو قانونی معاونت تک بروقت رسائی نہیں دی گئی اور رات گئے ان کی وکلا سے ملاقات میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق رہنماؤں کو علی الصبح تین بجے سنسد مارگ تھانے سے مندر مارگ پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا جہاں سب ڈویژنل ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے روبرو پیشی کے بعد عدالتی احکامات صادر کیے گئے۔ دوسری طرف دہلی پولیس کے حکام کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ مفصل ردعمل سامنے آنا ابھی باقی ہے۔
یہ تنازع ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنتر منتر کو باقاعدہ احتجاجی مقامات کی فہرست سے خارج کیے جانے کے حکومتی فیصلے نے عوامی اور سیاسی حلقوں میں پہلے ہی تشویش پیدا کر رکھی ہے۔ جمہوری معاشروں میں پرامن احتجاج، شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق اور اختلاف رائے کے تحفظ کو بنیاد کی حیثیت حاصل ہے۔ شہری تنظیموں اور قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے کریک ڈاؤن اور عوامی مقامات پر اظہار رائے کی حد بندی سے شہریوں اور ریاستی اداروں کے درمیان فاصلے مزید بڑھ سکتے ہیں۔
آئندہ چند روز میں اس قانونی معاملے کی تفصیلی سماعت متوقع ہے جہاں دفاعی وکلا کی جانب سے باقاعدہ ضمانت کی درخواست دائر کی جائے گی۔ عدالتی پیش رفت اور پولیس کی آئندہ قانونی دستاویزات یہ طے کریں گی کہ آیا ان رہنماؤں کے خلاف عائد دفعات عدالتی جانچ پر پوری اترتی ہیں یا نہیں۔ فی الحال اس معاملے نے ملک میں آئینی حقوق اور پرامن اجتماعات کی آزادی پر ایک نئی قومی بحث چھیڑ دی ہے۔




