حوثیوں کے خلاف لڑائی میں شامل ہونے کی اسرائیلی پیشکش کو سعودی عرب نے کیا مسترد

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے یمن کے حوثی گروپ کے خلاف جاری کشیدگی میں اسرائیل کی عسکری شمولیت سے متعلق موصولہ تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق واشنگٹن کی ثالثی کے ذریعے تل ابیب نے ریاض کے ساتھ مل کر حوثیوں کے خلاف مشترکہ فوجی محاذ کھولنے کی بھرپور کوشش کی تھی، جسے سعودی قیادت نے دوٹوک انداز میں قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ سفارتی حلقوں کے مطابق سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ وہ صیہونی ریاست کے ساتھ کسی قسم کے براہ راست یا بالواسطہ دفاعی تعاون میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا، جس کی ایک بڑی وجہ عالم اسلام اور سعودی عوام کے شدید جذبات اور فلسطینی کاز سے وابستگی ہے۔

اسرائیلی اخبار نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ تل ابیب انتظامیہ یمن جنگ کے سکیورٹی بحران کو ایک سنہری موقع سمجھتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ معمول کے تعلقات یعنی نارملائزیشن کی راہ ہموار کرنا چاہتی تھی۔ اسرائیل کا ارادہ تھا کہ حوثیوں کے میزائل حملوں کا حوالہ دے کر ریاض کو انٹیلی جنس اور عسکری امداد کی پیشکش کی جائے، تاہم سعودی حکومت اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہی۔ ریاض نے عالمی فورمز پر ہمیشہ یہ بات کھل کر کہی ہے کہ جب تک 1967ء کی سرحدوں کے تحت ایک خود مختار اور آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو جاتی، تب تک اسرائیل کے ساتھ سفارتی یا سکیورٹی نوعیت کے تعلقات کا قیام ممکن نہیں۔

یہ سکیورٹی و سفارتی تنازع ایسے سنگین موڑ پر سامنے آیا ہے جب سعودی عرب کے شہری ہوابازی کے مراکز بالخصوص ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو حوثیوں کی جانب سے شدید ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حالیہ حملوں کے دوران اب تک چودہ افراد جاں بحق اور تین سو سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں غیر ملکی محنت کش بھی شامل ہیں۔ حملوں کی شدت کے بعد حفاظتی اقدامات کے تحت سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ریاض ہوائی اڈے پر آپریشنز غیر معینہ مدت کے لیے محدود کر دیے ہیں، جس کے باعث پورے مشرق وسطیٰ کا فضائی نظام متاثر ہو کر رہ گیا ہے۔

سیکیورٹی خدشات اور مسافروں کے تحفظ کے پیش نظر خطے کی اہم ایئرلائنز بشمول خلیج ایئر، قطر ایئرویز، اتحاد ایئرویز، کویت ایئرویز اور مصر ایئر نے ریاض اور دمام کے لیے اپنی تمام تر پروازیں منسوخ یا معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تجارتی اور نقل و حمل کے مراکز کو نشانہ بنائے جانے سے یمن جنگ کے اثرات ایک بار پھر خلیجی معیشت پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ واضح رہے کہ سنہ 2022 میں اقوام متحدہ کی وساطت سے جنگ بندی کے بعد حالات میں استحکام پیدا ہوا تھا، لیکن حالیہ مہینوں میں حوثیوں کے نئے حملوں نے خطے کو دوبارہ غیر یقینی صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔

شیئر کریں۔