ڈاکٹر جمیل گوائی کے تأثرات جناب ارشد کاڑلی کے قلم سے
بعض رشتوں کو وقت کی بے رحم موجیں اور صدیوں کے فاصلے بھی کمزور نہیں کر پاتے۔ چہرے بدل جاتے ہیں، مصروفیات کی دھند گہری ہو جاتی ہے اور ملاقاتوں کے درمیان دہائیوں طویل وقفے آ جاتے ہیں؛ مگر دلوں کے نہاں خانوں میں محفوظ کچھ آوازیں برسوں بعد بھی اجنبی نہیں ہوتیں۔ وہ جب بھی سماعتوں سے ٹکراتی ہیں، ماضی کا کوئی بھولا بسرا ورق کھول دیتی ہیں۔
میں ایک اوسط درجے کا طالب علم تھا۔ یہ اس دور کا ذکر ہے جب نوائط کالونی اور اس کے گردونواح میں آبادی اس قدر گنجان نہیں تھی۔ علاقے کے بچے نوائط کالونی کے سرکاری پرائمری اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد، گھر سے خاصے فاصلے پر واقع ‘اسلامیہ اینگلو اردو ہائی اسکول’ میں آٹھویں جماعت کے لیے داخلہ لیتے تھے۔ یہاں سے میٹرک کرنے کے بعد ایک قلیل تعداد ہی انجمن آباد کے انجمن آرٹس، سائنس و کامرس کالج تک پہنچ پاتی تھی، جبکہ نوجوانوں کی اکثریت روزگار کی تلاش میں خلیجی ممالک کا رخ کر لیا کرتی تھی۔ میرا ذہن بچپن ہی سے تجارت کی طرف مائل تھا اور میں اپنے جیب خرچ کے لیے چھوٹی موٹی کاروباری سرگرمیاں کرتا رہتا تھا۔ اسی رجحان کے باوجود میں نے غالباً 1978ء میں پی یو سی (سائنس) میں داخلہ لے لیا۔
دو سال بعد جب جون 1980ء میں پی یو سی دوم کا نتیجہ آیا تو میں ریاضی (Mathematics) کے مضمون میں ناکام ہو چکا تھا۔ اس ناکامی نے میرے قدموں کو بھی خلیج کی طرف موڑ دیا۔ میں نے دبئی جانے کی ٹھانی۔ ان دنوں میرے ایک شناسا نے مشورہ دیا کہ اگر میں کالج سے ایک تصدیق نامہ (Certificate) بنوا لوں، جس میں یہ لکھا ہو کہ میں بارہویں جماعت تک تعلیم حاصل کر چکا ہوں، تو امارات میں ایک اچھی نوکری کا حصول ممکن ہو جائے گا۔
یہ تصدیق نامہ حاصل کرنے کی ضرورت مجھے اپنے وقت کے عظیم پرنسپل، محترم ایم۔ آئی۔ باغ سراج صاحب کے دفتر تک لے گئی۔ میں نے بغیر کسی لاگ و لپیٹ کے اپنا مدعا ان کے سامنے رکھ دیا۔ باغ سراج صاحب نے میری بات سن کر مجھ سے دیگر مضامین کے نمبرات کے بارے میں استفسار کیا۔ سچ تو یہ ہے کہ میرے باقی مضامین کے نمبر بھی کوئی اتنے قابلِ ذکر یا شاندار نہیں تھے۔ مگر جانے اس مردِ درویش کو مجھ میں کیا خوبی نظر آئی، یا انہوں نے میری آنکھوں میں کون سا پوشیدہ شرارہ دیکھ لیا کہ فوراً بولے: "تمہیں نہ صرف میتھس، بلکہ فزکس اور کیمسٹری کا بھی دوبارہ امتحان دینا چاہیے؛ کیونکہ تمہیں ڈاکٹر بن کر انسانیت کی خدمت کرنی ہے۔”
ایک طالب علم جو پڑھائی سے دل برداشتہ ہو کر نوکری کے لیے امارات جانے کا پروانہ لینے آیا ہو، اسے میڈیکل کالج کا راستہ دکھانا ایک معجزے سے کم نہ تھا۔ باغ سراج صاحب نے اپنے انتہائی قیمتی دو گھنٹے مجھے سمجھانے، میرا حوصلہ بڑھانے اور میری کایا پلٹنے میں صرف کر دیے۔ بالآخر وہ مجھے قائل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
اس تعلیمی سفر کے کٹھن موڑ پر ایک اور درخشندہ ستارے، پروفیسر عبدالغنی ملا صاحب نے بھی میری بے پناہ ہمت افزائی کی۔ انہوں نے تو گویا عہد کر لیا تھا کہ وہ مجھے نہ صرف پاس کروائیں گے، بلکہ اچھے نمبروں سے سرخرو کریں گے۔ یہ ایک خوبصورت حسنِ اتفاق تھا کہ محترم باغ سراج صاحب اور پروفیسر ملا صاحب، دونوں کا تعلق بیلگام سے تھا۔ باغ سراج صاحب کی دی ہوئی ترغیب اور پروفیسر ملا صاحب کی شب و روز کی بے لوث محنت رنگ لائی، اور میں بہت اچھے نمبروں سے کامیابی کی منزل چومنے میں کامیاب ہو گیا۔
اب میری منزل کی تلاش مجھے قائدِ قوم، محترم ایس۔ ایم۔ یحییٰ صاحب (مرحوم) کی رہائش گاہ تک لے آئی۔ ان کی پدرانہ شفقتوں اور خصوصی توجہ کا نتیجہ تھا کہ میرا داخلہ داونگیرہ کے ایک موقر اور نامور میڈیکل کالج میں ممکن ہو سکا۔ بعد ازاں میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایم۔ ڈی (MD) میں داخلہ بھی مرحوم یحییٰ صاحب کی مخلصانہ کوششوں کا مرہونِ منت تھا۔
اس دور میں اگرچہ میڈیکل کالج کے اخراجات آج کے مقابلے میں بہت کم تھے، لیکن ایک متوسط گھرانے کے لیے وہ بھی کسی بھاری بوجھ سے کم نہ تھے۔ میرے والد صاحب نے مجھے ڈاکٹر بنانے کے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے بے شمار قربانیاں دیں اور اپنی آسائشوں کو میرے مستقبل پر نچھاور کر دیا۔
رواں ماہ جب محسنِ ملت محترم باغ سراج صاحب اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے، تو دل نے پھر ایک بار پرانی یادیں کریدنے شروع کردی جس کا اثر یہ ہوا ہے کہ میں نے قلم کو حرکت دے کر یہ چند سطریں لکھ اس امید میں کہ ہماری آنے والی نوجوان نسل ان واقعات سے حوصلہ پائے اور یہ جان سکے کہ مخلص اساتذہ اور بزرگوں کی ایک تھپکی انسان کی تقدیر کیسے بدل سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ میرے ان محسنوں— محترم باغ سراج صاحب، پروفیسر اے/آئی۔ ڈی۔ ملا صاحب، قائدِ قوم ایس۔ ایم۔ یحییٰ صاحب اور میرے شفیق والد صاحب— چاروں کی بال بال مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین




