ہمسایہ ممالک سے مضبوط روابط ناگزیر ، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ قریبی ہمسایہ ممالک کے ساتھ مسلسل مکالمہ اور باہمی تعاون ایک محفوظ، مستحکم اور معاشی طور پر خوشحال خطے کے قیام کے لیے ایران کی بنیادی ترجیح ہے۔ تہران میں آرمینیا کے وزیر خارجہ ارارات میرزویان کے ساتھ ایک اہم تفصیلی ملاقات کے بعد انہوں نے علاقائی امن کے استحکام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جغرافیائی قربت رکھنے والی ریاستوں کے باہمی اشتراک کے بغیر خطے کا دیرپا تحفظ ممکن نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے اعلیٰ سفارت کاروں نے قفقاز اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی سیاسی صورتحال اور باہمی تعاون کے نئے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

ملاقات کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تجارتی، معاشی، ٹرانسپورٹیشن اور توانائی کے منصوبوں پر عملی پیش رفت کا سنجیدہ جائزہ لیا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں پڑوسیوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بین الاقوامی راہداریوں کی حفاظت اور سرحدی تجارت کی سہولیات کو جدید خطوط پر استوار کر کے دونوں ممالک کی معیشتوں کو باہمی انحصار کے ذریعے مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ عباس عراقچی نے اس عزم کو دہرایا کہ تہران اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے، تجارتی راہداریوں کے فروغ اور پائیدار اقتصادی شراکت داری کو فروغ دینے کی ٹھوس پالیسی پر گامزن ہے۔

ماضی قریب میں جنوبی قفقاز کا خطہ شدید جغرافیائی اور سیاسی تنازعات کی زد میں رہا ہے، جہاں سرحدوں میں تبدیلی اور بیرونی طاقتوں کے اثر و رسوخ کے خدشات پر تہران نے مسلسل تشویش ظاہر کی ہے۔ ایران تاریخی طور پر اپنی شمالی سرحدوں کی سلامتی اور تاریخی راہداریوں کی خودمختاری کو قومی مفاد کے لیے ریڈ لائن قرار دیتا آیا ہے۔ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جاری امن عمل کے پس منظر میں تہران کی یہ سفارتی پیش رفت اس امر کو یقینی بنانے کی کوشش ہے کہ علاقائی مسائل کا تصفیہ خطے کے اپنے ممالک ہی مل بیٹھ کر حل کریں اور کسی بیرونی مداخلت کا راستہ روکا جا سکے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والے ان مذاکرات کے نتیجے میں نہ صرف سرحدی سیکیورٹی اور ٹرانزٹ روٹس کے انتظام میں آسانی پیدا ہوگی بلکہ تہران کی جانب سے خطے میں اعتماد سازی کی کوششوں کو بھی تقویت ملے گی۔ خطے کے معاشی حلقے اس شراکت داری کو بین الاقوامی پابندیوں اور معاشی ناکہ بندیوں کے توڑ کے طور پر ایک مثبت پیش رفت دیکھ رہے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے عام شہریوں، تاجروں اور صنعت کاروں کے لیے سرحد پار روابط کی نئی راہیں ہموار ہوں گی۔

آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے تکنیکی اور معاشی وفود مشترکہ منصوبوں کے عملی نفاذ کے لیے مزید معاہدوں کو حتمی شکل دیں گے۔ تہران کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ وہ اپنے تمام قریبی ممالک، بشمول خلیجی اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ بھی اسی نوعیت کے نتیجہ خیز سفارتی رابطے جاری رکھے گا تاکہ خطے میں کسی نئے عسکری بحران کے بجائے اقتصادی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔

شیئر کریں۔