مولانا طفیل احمد قاسمیؒ اپنے آبائی وطن گیاری میں سپردِ خاک

امیرِ شریعت نے پڑھائی نمازِ جنازہ، مدرسہ رحمانیہ میں تعزیتی نشست، علماء و ذمہ داران کا خراجِ عقیدت

دربھنگہ (پریس ریلیز): مدرسہ رحمانیہ سوپول، بیرول، ضلع دربھنگہ کے سینئر استاذ حضرت مولانا طفیل احمد قاسمیؒ کو ان کے آبائی وطن گیاری میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ ان کی نمازِ جنازہ امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب دامت برکاتہم، سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر نے پڑھائی۔ نمازِ جنازہ میں بڑی تعداد میں علماء، اساتذہ، طلبہ، متعلقین اور عوام نے شرکت کی۔نمازِ جنازہ کے بعد مرحوم کی تدفین کے مراحل میں علماء و ذمہ داران نے شرکت کی۔ بعد اذاں حاضرین نے مولاناؒ کی مغفرت اور ان کی بلندیٔ درجات اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔جناب مولانا طفیل احمد قاسمیؒ کے انتقال پر مدرسہ رحمانیہ سوپول، بیرول میں امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب دامت برکاتہم، سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر کی صدارت میں ایک تعزیتی نشست منعقد ہوئی، جس میں اساتذہ، طلبہ، علماء، ذمہ داران اور متعلقین نے شرکت کرکے مولانا مرحوم کی دینی، تعلیمی اور سفارتی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے صدارتی خطاب میں حضرت مولانا طفیل احمد قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ مولانا طفیل قاسمی رحمۃ اللہ علیہ ابھی بالکل نوجوان تھے۔ ہم میں سے کسی نے یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ اس عمر میں اس دارِ فانی سے کوچ کر جائیں گے۔انہوں نے فرمایا کہ مولانا بہت مخلص انسان تھے اور ان کے اخلاص و للہیت کا اندازہ ان کے عمل سے ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ اس مقصد کے لیے وقف کر رکھا تھا کہ جہاں اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث و تعلیمات سکھائی جاتی ہیں، وہاں دینی تعلیم کا سلسلہ اچھی طرح جاری رہے، طلبہ کو بہترین تعلیم ملے اور اساتذہ و کارکنان کے معاملات درست طریقے سے چلتے رہیں۔ ان کا آخری سفر بھی اسی دینی مقصد کے لیے تھا۔حضرت امیرِ شریعت نے دعا فرمائی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت مولانا طفیل احمد قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کو شہادت کا درجہ عطا فرمائے۔انہوں نے مزید فرمایا کہ مولانا کی زندگی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کا عمل موت کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے، لیکن دین کی خدمت، نفع بخش علم اور انسانوں کو فائدہ پہنچانے والے اعمال باقی رہتے ہیں۔ مولانا نے اپنے طلبہ کو جو نفع بخش علم سکھایا اور دین کی خدمت کے لیے جو کام کیا، اللہ تعالیٰ اسے ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔حضرت امیرِ شریعت نے مولانا کے انتقال کو سبھوں کے لیے عبرت قرار دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ ہمیں یہ محسوس نہیں ہوتا کہ اگلا لمحہ ہمارا بھی ہوسکتا ہے۔ اس لیے جب ہمارے دل نرم ہیں، ہمیں اللہ تعالیٰ کے سامنے عہد کرنا چاہیے کہ ہم اللہ کی حاکمیت کو قبول کریں گے، اس کے احکام پر عمل کریں گے اور خود کو اس کا بندہ سمجھ کر زندگی گزاریں گے۔جناب مفتی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب، استاذ مدرسہ رحمانیہ سوپول نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت مولانا طفیل احمد صاحب قاسمی رحمۃ اللہ علیہ ہمہ جہت اوصافِ حمیدہ کے حامل شخصیت تھے۔ وہ ہمیشہ دینی، تعلیمی اور رفاہی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ مدرسہ رحمانیہ کو ان کی خدمات سے بہت فائدہ پہنچا، جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے مرحوم کی ایک مجلس کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ مولانا صاحب نے حیدرآباد روانہ ہونے سے قبل ایک مجلس میں فرمایا تھا کہ ہم نے عمرہ کے سفر کی رقم بھی ادا کردی ہے، دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے اور اپنے بابرکت و مقدس مقامات کی زیارت کے لیے بلا لے۔ ان کی یہ خواہش ان کی دینی وابستگی اور مقدس مقامات سے محبت کی عکاس تھی۔مفتی محمد توحید مظاہری صاحب، نائب مہتمم مدرسہ رحمانیہ سوپول نے اپنے تعزیتی خطاب میں کہا کہ مرحوم نہایت عاجزی و انکساری پسند انسان تھے۔ مدرسہ کے اساتذہ جب بھی کوئی فرمائش کرتے، وہ حتی المقدور اسے پورا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ بالخصوص محتاج اور ضرورت مند طلبہ کی ضروریات کا وہ مکمل خیال رکھتے اور ان کی مدد کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔تعزیتی نشست میں جناب مولانا مفتی قاضی وصی قاسمی صاحب، امارت شرعیہ نے کہا کہ حضرت مولانا طفیل احمد قاسمی رحمۃ اللہ علیہ جامعہ رحمانی، خانقاہ مونگیر، امارت شرعیہ پٹنہ اور وہاں کے اکابر و بزرگوں سے گہری عقیدت رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب حضرت امیرِ شریعت کو مولانا کے انتقال کی خبر ملی تو ابتدا میں یقین نہیں آیا، لیکن موت ایک اٹل حقیقت ہے۔ خبر ملتے ہی حضرت امیرِ شریعت نے اپنی تمام مصروفیات چھوڑ کر مولانا کی نمازِ جنازہ میں شرکت کا عزم فرمایا۔مولانا موصوف نے مزید کہا کہ مولانا طفیل احمد قاسمیؒ مدرسہ رحمانیہ سوپول کی خدمت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوئے، اس لیے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں قیامت کے دن بھی دین کی خدمت کے شرف کے ساتھ اٹھائے گا۔جناب مولانا مفتی قاضی انظار عالم قاسمی رحمانی صاحب، چیف قاضی امارت شرعیہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب ہم کسی کے جنازے میں شریک ہوتے ہیں تو بسا اوقات یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ایک بھائی کو رخصت کرنے آئے ہیں، لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ایک دن ہم سب کو اسی طرح رخصت کیا جائے گا۔ اس لیے ہر انسان کو اپنی آخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔دیگر معزز علماء و شخصیات نے بھی اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کی دینی، تعلیمی، رفاہی اور انسانی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی۔نشست کا آغاز اسرار احمد، متعلم مدرسہ رحمانیہ سوپول، بیرول کی تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا۔ پروگرام کی نظامت جناب مفتی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب، استاذ مدرسہ رحمانیہ سوپول نے انجام دی۔مدرسہ رحمانیہ کے ذمہ داران نے حضرت مولانا طفیل احمد قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کی وفات مدرسہ اور ان سے وابستہ تمام افراد کے لیے ایک بڑا خلا ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان و متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔اس موقع پر جناب سید ثاقب نظامی رحمانی صاحب، انچارج قائم مقام مہتمم مدرسہ رحمانیہ نے مدرسہ کے انتظامی امور کی نگرانی کرتے ہوئے آنے جانے والے مہمانوں، داخلی و خارجی انتظامات اور پورے نظام کی مکمل دیکھ بھال کی۔مہمانوں کی آمد و رفت، قیام و طعام اور دیگر انتظامی امور میں مفتی محب اللہ قاسمی صاحب، نائب مہتمم مدرسہ رحمانیہ؛ مفتی محمد توحید مظاہری صاحب، نائب مہتمم؛ قاضی محمد ابوشاہد رحمانی قاسمی صاحب؛ مفتی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب؛ مفتی عبدالقادر قاسمی صاحب؛ مفتی اسعد مظاہری صاحب؛ مولانا نعمت اللہ قاسمی صاحب؛ مولانا محمد اسحاق قاسمی صاحب؛ مولانا محمد غفران رحمانی صاحب؛ مولانا محمد کوثر جمیلی قاسمی صاحب؛ مولانا محمد ساجد حسین رحمانی صاحب؛ مولانا محمد آفتاب رحمانی صاحب؛ قاری عبدالسلام عرفانی صاحب؛ قاری محمد نواز اشاعتی صاحب؛ قاری محمد افتخار رحمانی صاحب؛ قاری قیام الدین رحمانی صاحب؛ قاری حبیب اللہ رحمانی صاحب اور جملہ کارکنان نے اپنی ذمہ داریاں بخوبی انجام دیں۔اسی طرح بورڈ کے اساتذہ میں حافظ عبدالمنان رحمانی صاحب، قاری محمد نظام الدین عادل قاسمی صاحب، ماسٹر شاہنواز صاحب اور دیگر اساتذہ و کارکنان نے بھی انتظامی امور میں بھرپور تعاون کیا۔

شیئر کریں۔