10 اکتوبر کے احتجاج سے قبل سی جے پی کارکنان کوممبئی پولیس بھیج رہی نوٹسز : ابھیجیت دیپکے کا دعوی

چھترپتی سمبھاجی نگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے الزام لگایا ہے کہ ان کے کارکنان کو دہلی میں مجوزہ احتجاج میں شامل نہ ہونے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق چندر پور پولیس نے پارٹی کارکنوں کو نوٹسز جاری کیے ہیں جن میں سفر کے اخراجات اور فنڈنگ کے ذرائع کے متعلق بازپرس کی گئی ہے اور انہیں دہلی جانے سے روکا جا رہا ہے۔ دیپکے نے پولیس کے اس طرز عمل کو کھلی آمریت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمہوری حقوق کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ابھیجیت دیپکے نے پریس کانفرنس میں کہا کہ مہاراشٹر پولیس کو ملک کی بہترین فورس سمجھا جاتا رہا ہے لیکن چندر پور میں پیش آنے والا واقعہ افسوسناک ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی شہری چندر پور سے نئی دہلی کے سفر کے لیے ایک ہزار یا پندرہ سو روپے کا ٹکٹ خریدتا ہے تو پولیس کو اس کے فنڈز کا ذریعہ پوچھنے کا کیا حق پہنچتا ہے۔ انہوں نے پولیس کے ان نوٹسز پر بھی حیرت کا اظہار کیا جن میں مظاہرے کے پرتشدد ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، اور دریافت کیا کہ پولیس کو پہلے سے یہ کیسے معلوم ہوا کہ احتجاج میں امن و امان خراب ہوگا۔

سی جے پی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر 10 اکتوبر کو قومی دارالحکومت کے جنتر منتر پر احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس سے قبل 2 اکتوبر کو ممبئی کے شیواجی پارک میں ووٹر لسٹوں سے نام خارج کیے جانے کے خلاف ایک بڑا مظاہرہ کیا گیا تھا، جس کے بعد دہلی میں دھرنے کی کال دی گئی۔ دیپکے نے واضح کیا کہ جیل جانے کا خوف کارکنوں کو جمہوری حقوق کے استعمال سے نہیں روک سکتا اور مجوزہ احتجاج اپنے وقت پر ہوگا۔

انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی کے طریقہ کار پر حزب اختلاف کی جماعتیں اور سی جے پی مسلسل سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ انتخابی فہرستوں میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں جس سے ووٹروں کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن نے ان تمام الزامات اور کمیشن کے اندرونی اختلافات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ نظر ثانی کے تمام فیصلے مکمل اتفاق رائے اور شفافیت کے ساتھ کیے گئے ہیں۔

مرکزی حکومت کے مجوزہ منصوبے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے سی جے پی لیڈر نے دعویٰ کیا کہ ’ون نیشن ون الیکشن‘ محض ایک نعرہ ہے جبکہ اصل ارادہ ملک میں صرف ایک سیاسی جماعت کا غلبہ قائم کرنا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر پابندیوں اور نوٹسز کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مہاتما گاندھی اور بابا صاحب امبیڈکر کے افکار پر بات کرنا کسی صورت تشدد نہیں کہلا سکتا۔

جمہوری عمل میں شہریوں کی پرامن شرکت اور دستوری اداروں کے احتساب کے حوالے سے یہ تنازع آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے کیونکہ ایک طرف تنظیمی سطح پر دھرنے کی تیاریاں جاری ہیں تو دوسری طرف انتظامیہ سکیورٹی کے نام پر سخت اقدامات کر رہی ہے۔

شیئر کریں۔