دہلی میں پرامن احتجاج پر پابندی کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی

سپریم کورٹ نے پیر کے روز قومی دارالحکومت دہلی میں شہریوں، طلبہ اور سیاسی نمائندوں کو پرامن احتجاج کی اجازت نہ دینے کے دہلی پولیس کے طرزِ عمل کے خلاف دائر عرضی پر فوری نوٹس لیتے ہوئے اسے سماعت کے لیے فہرست میں شامل کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جویمالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل تین رکنی بنچ کے روبرو ایک وکیل نے اس معاملے کو پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس انتظامیہ شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق سلب کرتے ہوئے مظاہروں کی اجازت دینے سے مسلسل انکار کر رہی ہے۔

عدالت عظمیٰ کے سامنے دلائل پیش کرتے ہوئے وکیل نے نشاندہی کی کہ دہلی پولیس عام شہریوں، طلبہ تنظیموں اور رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کے ذمہ داران بشمول اراکین پارلیمنٹ کو پرامن عوامی اجتماعات سے روک رہی ہے، جو کہ جمہوری قدروں اور آئینی آزادی کے صریح منافی ہے۔ چیف جسٹس نے اس پر استفسار کیا کہ اس درخواست میں کس نوعیت کی راحت مانگی گئی ہے اور کیا یہ کوئی مفاد عامہ کی عرضی ہے۔ وکیل کے اس وضاحتی بیان کے بعد کہ وہ پولیس کو قانون کے مطابق پرامن مظاہروں کی اجازت دینے کے لیے واضح ہدایات جاری کرنے کی استدعا کر رہے ہیں، بنچ نے واضح کیا کہ وہ زیر التوا ملتے جلتے مقدمات کی جانچ پڑتال کے بعد اس عرضی کو باضابطہ سماعت کے لیے مقرر کرے گی۔

دارالحکومت میں احتجاج پر عائد ان سخت پابندیوں کے پیچھے الیکشن کمیشن سے جڑا ایک سنگین تنازع کارفرما ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انتخابی فہرستوں کی خصوصی اور تفصیلی نظرثانی مہم کے دوران چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے کیے گئے یکطرفہ فیصلوں پر خود الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ دس ماہ کے دوران کم از کم چودہ مرتبہ تحریری تحفظات درج کرائے تھے۔ اس انکشاف کے بعد سماجی تنظیموں، طلبہ برادری اور اپوزیشن جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر کی برطرفی اور قانونی کارروائی کے حق میں آواز بلند کی، جس کے نتیجے میں دارالحکومت احتجاج کا مرکز بن گیا، لیکن پولیس نے مظاہرین کو جنتر منتر اور دیگر مقامات پر جمع ہونے سے روک دیا۔

آئین ہند کی دفعہ 19 شہریوں کو پرامن طریقے سے جمع ہونے اور اپنے تحفظات کا اظہار کرنے کی ضمانت دیتی ہے۔ جب ووٹر لسٹوں کی درستگی، شفافیت اور پسماندہ و اقلیتی طبقات کے انتخابی حقوق سے جڑے عوامی معاملات پر اختلاف رائے کو انتظامی حربوں یا پولیس فورس کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس سے جمہوری نظام کا توازن بگڑتا ہے۔ تاریخی طور پر عوامی تحریکیں اور پرامن اجتماعات ہی ناانصافیوں کے خلاف شہریوں کا سب سے مؤثر ذریعہ رہے ہیں، جنہیں انتظامی رکاوٹوں کی نذر کرنا انصاف کی روح کے خلاف ہے۔

عدالت عظمیٰ کی جانب سے اس معاملے کو فہرست میں شامل کرنے کا عندیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آئینی عدالتیں انتظامی زیادتیوں اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی پامالی پر خاموش نہیں رہیں گی۔ توقع ہے کہ جلد مقرر ہونے والی سماعت کے دوران دہلی پولیس اور متعلقہ حکام کو یہ واضح کرنا پڑے گا کہ کس قانونی جواز کے تحت دارالحکومت میں پرامن مظاہروں کو روکا گیا اور اس سلسلے میں عدالت کی جانب سے مستقل رہنمائی جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

جمہوری ریاستوں کا اصل حسن شہریوں کے جائز اور پرامن احتجاج کو تسلیم کرنے میں پنہاں ہے، نہ کہ رکاوٹیں کھڑی کر کے ان کی آواز دبانے میں۔ انتخابی عمل کی دیانت داری اور شفافیت کے دفاع میں اٹھنے والی عوامی آوازوں کو طاقت کے بل پر روکنا مسائل کا حل نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر سب کی نگاہیں ٹکی ہیں کہ وہ پولیس کی من مانیوں پر قدغن لگا کر شہریوں کے آزادی اظہار کے حق کو کس طرح بحال کرتی ہے۔

شیئر کریں۔