کرناٹک میں اقلیتی ووٹرز کو نشانہ بنانے کی کوشش, بی جے پی لیڈر نے غلطی تسلیم کرتے ہوئے واپس لی درخواستیں

کرناٹک کے ضلع چکمگلور کے کوپا تعلقہ میں اقلیتی برادریوں کے ووٹنگ حقوق سلب کرنے کی ایک مبینہ منظم کوشش اس وقت بے نقاب ہو گئی جب مقامی بی جے پی رہنما نے 243 مسلم اور عیسائی ووٹرز کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹانے کی اپنی درخواستیں واپس لے لیں۔ بی جے پی کے تعلقہ سطح کے رہنما ایچ کے دنیش نے 21 اور 22 ستمبر کو فارم 7 کے تحت یہ اعتراضات داخل کیے تھے، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ ووٹرز اپنے متعلقہ پولنگ علاقوں سے منتقل ہو چکے ہیں۔ تاہم، حقائق سامنے آنے کے بعد انہوں نے یکم اکتوبر کو ایک اعترافی خط جمع کراتے ہوئے اپنی تمام درخواستیں واپس لے لیں۔

اس معاملے نے اس وقت شدت اختیار کی جب معروف صحافی اور آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر نے 4 اکتوبر کو سوشل میڈیا پر اس مہم کی تفصیلات شیئر کیں۔ ان کی جانب سے منظر عام پر لائی گئی فہرستوں سے یہ چونکا دینے والا انکشاف ہوا کہ جن افراد کے نام ووٹر لسٹ سے کٹوانے کی کوشش کی گئی، ان میں ایک بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) اور اس کے اہل خانہ بھی شامل تھے۔ ایچ کے دنیش نے اپنے وضاحتی خط میں موقف اختیار کیا ہے کہ انہیں ایک مقامی فہرست سے غلط معلومات موصول ہوئی تھیں اور زمینی سطح پر دوبارہ تصدیق کرنے پر یہ تمام افراد حق رائے دہی کے لیے اہل پائے گئے۔

ریاست میں انتخابی فہرستوں کی نظر ثانی کے دوران فارم 7 کا استعمال کرتے ہوئے تھوک کے حساب سے اعتراضات داخل کرنے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ناقدین اور شہری حقوق کے کارکنان اسے اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کو جمہوری عمل سے بے دخل کرنے کی ایک دانستہ سازش قرار دے رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ بی جے پی رہنما کی جانب سے درخواست واپس لینے کا اعترافی خط اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انتخابی فہرستوں میں مبینہ طور پر ہیر پھیر کے ذریعے ووٹرز کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

دوسری جانب، بھارتیہ جنتا پارٹی اس طرز عمل کا دفاع کرتے ہوئے اسے انتخابی فہرستوں کو شفاف اور غلطیوں سے پاک بنانے کا معمول کا عمل قرار دیتی ہے۔ تاہم، ایک مخصوص طبقے کے ووٹرز کو نشانہ بنانے کے شواہد سامنے آنے کے بعد ریاستی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور اقلیتی برادریوں میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اس طرح کے بلاجواز اور بڑی تعداد میں داخل کیے گئے اعتراضات کا سخت نوٹس لیا ہے۔ کمیشن نے مختلف علاقوں میں موصول ہونے والی ایسی شکایات کی باقاعدہ جانچ کا حکم دے دیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ ووٹر لسٹوں سے نام حذف کرنے کے کسی بھی عمل سے پہلے زمینی حقائق اور متعلقہ افراد کی مکمل جانچ پڑتال کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی شہری کا آئینی اور جمہوری حق غصب نہ ہو سکے۔

شیئر کریں۔