مغربی بنگال کے ضلع دارجلنگ میں ہجومی تشدد کا ایک دلدوز اور سنگین واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں مویشی چوری کے شبہ میں مشتعل ہجوم نے حملہ کر کے دو مسلم نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جبکہ تین دیگر شدید زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق یہ وحشیانہ واقعہ ہفتہ، 3 اکتوبر کی علی الصبح ماتی گاڑا اور باگ ڈوگرا کے درمیانی علاقے میں واقع تارا باڑی گاؤں کے قریب دریائے بالاسن کے پاس پیش آیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق جان بحق ہونے والوں کی شناخت شمالی دیناج پور کے چوپڑا علاقے سے تعلق رکھنے والے شاہد اختر اور ریاست ہریانہ کے رہائشی سجاد محمد کے طور پر ہوئی ہے۔ زخمی ہونے والے تین افراد میں عامر ستار، اکرم خان اور عارف خان شامل ہیں، جنہیں فوری طور پر علاج کے لیے نارتھ بنگال میڈیکل کالج اینڈ اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت زیرِ نگرانی ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق یہ پانچوں افراد رات تقریباً ڈھائی بجے ایک پک اپ وین اور کار میں سفر کر رہے تھے۔ گاؤں کے کچھ افراد کو ان کی نقل و حرکت پر شبہ ہوا، جس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے بڑی تعداد میں مقامی باشندے جمع ہو گئے۔ مشتعل ہجوم نے گاڑیوں کا پیچھا کیا اور ان پر دھاوا بول دیا۔ حملہ آوروں نے لاٹھیوں اور دیگر اشیاء سے افراد کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ پک اپ وین کو آگ لگا دی اور دوسری گاڑی کی بری طرح توڑ پھوڑ کی۔
تشدد کا یہ سلسلہ صرف تارا باڑی تک محدود نہیں رہا بلکہ بعد ازاں قریبی دھیمال کے علاقے تک پھیل گیا، جہاں پناہ لینے کی کوشش کے دوران ان افراد پر دوبارہ حملہ کیا گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ماتی گاڑا، باگ ڈوگرا اور پانی گھاٹا تھانوں کی پولیس فورس موقع پر پہنچی اور حالات پر قابو پایا۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے دونوں لاشیں تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی ہیں۔
ملک کے مختلف حصوں میں مویشی کی منتقلی یا چوری کے محض شبہ کی بنیاد پر ہجوم کے قانون ہاتھ میں لینے کے واقعات انسانی حقوق کی سنگین پامالی اور قانونی نظام کے لیے ایک مستقل چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ ماب لنچنگ کے ایسے واقعات نہ صرف اقلیتوں کے تحفظ پر سوالات کھڑے کرتے ہیں بلکہ امن و امان کی مجموعی صورتحال کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ انسانی حقوق کے ماہرین ایسے واقعات پر سخت اور فوری قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
اس واقعے کے بعد علاقے میں گہری تشویش اور بے چینی پائی جاتی ہے جبکہ انتظامیہ نے نظم و نسق بحال رکھنے کے لیے حفاظتی انتظامات سخت کر دیے ہیں۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی جرم کے شبہ میں ہجوم کا اس طرح قانون اپنے ہاتھ میں لینا انصاف کے تقاضوں کے قطعی منافی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے باقاعدہ فوجداری مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ حملے میں ملوث افراد کی نشاندہی اور گرفتاری کے لیے تفتیش جاری ہے اور پولیس نے واضح کیا ہے کہ تشدد میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔




