نئی دہلی : کانگریس کے قومی صدر اور راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھرگے نے کرناٹک میں سال کی شدید ترین خشک سالی (قحط سالی) اور کسانوں کے پیدا شدہ بحران کے پیشِ نظر وزیراعظم نریندر مودی کو ایک تفصیلی 11 صفحات پر مشتمل خط تحریر کیا ہے۔ کھرگے نے وزیراعظم سے ذاتی اور ہنگامی مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے ریاست کے چھوٹے اور غریب کسانوں کو فوری مالی امداد اور معاوضہ فراہم کرنے کے لیے چھ اہم مطالبات سامنے رکھے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر خط کی کاپی شیئر کرتے ہوئے ملکارجن کھرگے نے بتایا کہ کرناٹک اس وقت حالیہ برسوں کے سب سے سخت قحط سے گزر رہا ہے، جہاں ستمبر تک بارش میں 58 فیصد کی ریکارڈ کمی درج کی گئی ہے۔ اس کی وجہ سے لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں اور 31 لاکھ سے زائد کسان خاندان شدید مالی اور غذائی بحران کا شکار ہیں۔ ریاست نے 18,748.23 کروڑ روپے کے کل تخمینے کے نقصان کے مقابلے NDRF اور SDRF کے تحت صرف 3,705.30 کروڑ روپے کی ہنگامی مرکزی امداد کا مطالبہ کیا ہے۔
ملکارجن کھڑگے نے اپنے خط میں وزیراعظم کے سامنے درج ذیل چھ اہم مطالبات رکھے ہیں
مرکزی ٹیم کا فوری دورہ: زمینی سطح پر قحط کے نقصان کا جائز لینے کے لیے بالخصوص ‘کلیان کرناٹک’ کے علاقوں کے لیے ایک اعلیٰ سطحی مرکزی ٹیم فوراً روانہ کی جائے۔
3705 کروڑ کی مکمل منظوری : ریاست کی جانب سے مانگی گئی 3,705.30 کروڑ روپے کی رقم بغیر کسی کٹوتی کے فوری جاری کی جائے۔
کسانوں کا تحفظ: ان پٹ سبسڈیز کا حساب کتاب 2015-16 کی پرانی زراعت شماری کے بجائے کرناٹک کے نئے ‘بھومی’ لینڈ ریکارڈز کے تحت کیا جائے تاکہ کوئی بھی حقدار کسان محروم نہ رہے۔
دیگر تعلقوں کی شمولیت : جن 11 مزید تعلقوں کا سروے ہو رہا ہے، انہیں بھی واحد خشک سالی کے زمرے میں شامل کر کے امداد دی جائے۔
پینے کے پانی کا انتظام: کاویری اور دیگر ڈیموں میں پانی کی ریکارڈ کمی کے پیش نظر پینے کے پانی اور متبادل بجلی کے اخراجات کے لیے اضافی فنڈز دیے جائیں۔
سیاست سے بالاتر امداد: سیاسی اختلافات کو سائیڈ پر رکھتے ہوئے انسانی بنیادوں پر 31 لاکھ سے زائد متاثرہ کسان خاندانوں کی بروقت مدد کی جائے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ قحط سالی کا مسئلہ سیاسی نہیں بلکہ انسانیت کا مسئلہ ہے اس لیے مرکز کو بغیر کسی تاخیر کے دل کھول کر ریاست کی مدد کرنی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس سلسلے میں انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو بھی مکتوب ارسال کیا ہے تا کہ کسانوں کو مویشیوں کے چارے، پینے کے پانی اور روزگار کی فراہمی میں تاخیر نہ ہو۔




