گجرات یکساں سول کوڈ بل کو صدر جمہوریہ کی منظوری،شادی، طلاق اور وراثت کے نئے قوانین

صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے گجرات یکساں سول کوڈ (یو سی سی) بل 2026 کو باضابطہ منظوری دے دی ہے، جس کے بعد ریاست میں اس متنازع قانون کے نفاذ کی راہ مکمل طور پر ہموار ہو گئی ہے۔ گجرات حکومت کے گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق صدر نے 17 ستمبر کو اس بل پر دستخط کیے۔ ریاستی حکومت جلد ہی ایک الگ نوٹیفکیشن کے ذریعے قانون کے باقاعدہ اطلاق کی تاریخ کا اعلان کرے گی۔

گجرات اسمبلی نے 24 مارچ کو سات گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی طویل بحث کے بعد اس بل کو منظور کیا تھا۔ اس قانون کے تحت ریاست میں شادی، طلاق، وراثت اور لو ان ریلیشن شپ کے لیے ایک مشترکہ قانونی فریم ورک قائم کیا گیا ہے۔ یہ قانون گجرات کی حدود کے اندر تمام شہریوں پر نافذ ہوگا، جبکہ ریاست کے وہ باشندے جو عارضی یا مستقل طور پر ریاست سے باہر مقیم ہیں، وہ بھی اس کے دائرہ کار میں شامل کیے گئے ہیں۔ تاہم، آئین ہند کی دفعہ 342 کے تحت درج فہرست قبائل اور دفعہ 21 کے تحت روایتی حقوق کا تحفظ پانے والے مخصوص طبقات کو اس کوڈ سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

نئے قانون کے تحت یک زوجگی کو لازمی قرار دیتے ہوئے کثرت ازدواج پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ نکاح اور شادی کے لیے لڑکے کی کم از کم عمر 21 سال اور لڑکی کی عمر 18 سال مقرر رکھی گئی ہے۔ اگرچہ نکاح، سپت پدی، آنند کارج اور دیگر مذہبی رسومات کے مطابق شادیاں انجام دینے کی اجازت برقرار رکھی گئی ہے، لیکن شادی کا سرکاری اندراج لازمی ہوگا۔ شادی کے 60 دنوں کے اندر متعلقہ رجسٹرار کے پاس تفصیلات جمع کرانا ضروری ہوگا، اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں دس ہزار روپے تک کا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

طلاق کے حوالے سے قانون میں یکساں بنیادیں رکھی گئی ہیں، جن میں بے وفائی، ظلم، دو سال تک ترک تعلق، مذہب کی تبدیلی اور سات سال تک لاپتہ رہنا شامل ہیں۔ باہمی رضامندی سے طلاق کے لیے ایک سال کی علیحدگی لازمی قرار دی گئی ہے۔ قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ یو سی سی کی طے شدہ شرائط کے علاوہ کسی بھی دوسرے طریقہ کار یا پرسنل لا کے تحت طلاق تسلیم نہیں کی جائے گی۔ وراثت کے معاملے میں بھی مشترکہ ضابطہ نافذ کیا گیا ہے جس کی رو سے جائیداد کی تقسیم میں بیٹیوں اور بیٹوں کو مساوی حقوق دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ لو ان ریلیشن شپ کا اندراج بھی لازمی قرار دیا گیا ہے، جہاں 21 سال سے کم عمر افراد کے والدین کو مطلع کرنا لازمی ہوگا اور مخصوص حالات میں مقامی پولیس کو بھی اس کی اطلاع دی جا سکتی ہے۔

سیاسی اور سماجی سطح پر اس قانون کو لے کر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ کانگریس اور عام آدمی پارٹی نے اسمبلی میں اس بل کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کیا تھا۔ مسلم کمیونٹی، قانونی ماہرین اور اقلیتی تنظیموں نے اس قانون پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرسنل لا میں مداخلت سے مذہبی آزادی اور آئینی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ قانون تمام شہریوں کے لیے مساوی حقوق، خاص طور پر خواتین کے سماجی و قانونی تحفظ کو یقینی بنانے کے مقصد سے لایا گیا ہے۔

گجرات میں اب قواعد و ضوابط کی حتمی تشکیل اور نوٹیفکیشن کے اجراء کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ قانونی مبصرین کا خیال ہے کہ اتراکھنڈ کے بعد گجرات میں اس نوعیت کا قانون نافذ ہونے سے قومی سطح پر پرسنل لا، آئین کی دفعہ 25 کے تحت حاصل مذہبی آزادی اور تنوع کے تحفظ پر نئی عدالتی اور عوامی بحث شروع ہونا طے ہے۔

شیئر کریں۔