بنگلورو (فکروخبر نیوز) کرناٹک کی قانون ساز اسمبلی ‘ودھان سودھا’ کے احاطہ میں پیش کردہ مجوزہ ‘اردو فیسٹیول’ کے انعقاد پر اپوزیشن جماعت بی جے پی اور کنڑ قوم پرست تنظیموں کی شدید مخالفت کے بعد ریاستی حکومت کا موقف سامنے آیا ہے۔ کرناٹک کے وزیر برائے اوقاف، حج و اقلیتی بہبود یو ٹی قادر نے جمعرات کو واضح کیا ہے کہ حکومت اس معاملے پر کسی کے ساتھ تصادم نہیں چاہتی اور اگر اعتراضات شدید ہیں تو تقریب کے مقام پر دوبارہ غور کیا جا سکتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق، 9 نومبر کو ‘یومِ اردو’ کے موقع پر ودھان سودھا کے احاطہ میں ایک شاندار اردو فیسٹیول اور اردو ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈز کی تقریب منعقد کرنے کا خاکہ تیار کیا گیا تھا۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے یو ٹی قادر نے کہا، "ہر زبان کی اپنی ایک بہترین روایت اور ثقافت ہوتی ہے جو محبت اور اتحاد کا پیغام دیتی ہے۔ ہمارا مقصد ایک مضبوط بھارت اور کرناٹک میں باہمی اعتماد کی فضاء قائم کرنا تھا۔ پہلے یہ ایوارڈ تقریب ہال کے اندر ہوتی تھی، اس بار کھلے میدان میں کرنے کا خیال تھا تاکہ جن لوگوں کو زبان کے بارے میں غلط فہمیاں ہیں ان کی دوری ختم ہو۔”
وزیر موصوف نے مزید کہا، "اگر اس تجویز سے کوئی تنازع پیدا ہو رہا ہے تو ہم اسے انا کا مسئلہ نہیں بنائیں گے۔ ہم تمام فریقین سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ ملک کا اتحاد، امن اور بھائی چارہ ہمارے لیے کسی بھی ضمیر یا انا سے زیادہ اہم ہے اور اس کے لیے ہم کسی بھی حد تک جھکنے کو تیار ہیں۔”
دوسری جانب بی جے پی کے ریاستی صدر بی وائی وجئے یندرر اور ‘کرناٹک رکشنا ویدیکے’ کے سربراہ نارائن گوڑا نے اس تجویز کی شدید مخالفت کی ہے۔ بی جے پی صدر نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت اقلیتوں کی دلجوئی کی سیاست کر رہی ہے اور کنڑ زبان کی جگہ اردو کو ترجیح دے رہی ہے جبکہ کنڑ تنظیموں کا کہنا ہے کہ بنگلورو میں کئی دیگر مقامات موجود ہیں جہاں یہ فیسٹیول منعقد کیا جا سکتا ہے، لہٰذا ودھان سودھا پر اس کا انعقاد ناقابلِ قبول ہوگا۔




