سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے لکھنؤ میں پارٹی کے ریاستی ہیڈکوارٹر پر منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اتر پردیش کی یوگی حکومت کی پالیسیوں اور انتظامی رویے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے ریاست میں مسلمانوں، دینی اداروں اور عبادت گاہوں کو دانستہ طور پر ہدف بنانے کے رجحان پر کھل کر بات کی۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ ریاست کے اندر شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق پامال ہو رہے ہیں اور بلڈوزر کے خوف سے لوگوں کو عدالتوں سے رجوع کرنے کا موقع تک نہیں دیا جا رہا، جو قانون کی بالادستی کے بالکل برعکس ہے۔
اکھلیش یادو نے یوپی کے موجودہ حالات میں اقلیتی برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک کے مسلمان ہندوستانیت، آئین اور جمہوری روایات کے تحفظ کی خاطر مسلسل صبر و تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ برسرِ اقتدار جماعت ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مدارس اور دینی شناخت کے حامل اداروں کے ساتھ امتیازی رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ سماجوادی پارٹی کے سربراہ نے اعلان کیا کہ اگر ان کی پارٹی برسرِ اقتدار آئی تو مدرسہ اساتذہ کی روکی گئی تنخواہیں اور بقایا جات فوری بحال کیے جائیں گے اور تعلیمی نظام سے جڑے تمام امتیازی قوانین کو ختم کیا جائے گا۔
تعلیمی و ملازمین کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ ناانصافی صرف مدارس تک محدود نہیں ہے بلکہ سنسکرت اسکولوں اور دیگر سرکاری اساتذہ کو بھی جائز مطالبات کے لیے سڑکوں پر دھکیلا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سماجوادی پارٹی اقتدار میں واپس آتے ہی سرکاری ملازمین کے دیرینہ مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے ’اولڈ پنشن اسکیم‘ کو نافذ کرے گی تاکہ محنت کش طبقے کو معاشی تحفظ مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی بے چینی اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ حکومت حکمرانی کے بجائے تفریق پر قائم ہے۔
الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے تنازع پر اپنے دو ٹوک موقف کا اعادہ کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انتخابی عمل کی شفافیت پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سماجوادی پارٹی مستقبل کے انتخابات میں تمام نشستوں پر بھی تاریخی کامیابی حاصل کر لے، تب بھی بیلٹ پیپر کی بحالی کے لیے ان کی اصولی جدوجہد جاری رہے گی۔ اکھلیش یادو نے جرمنی اور امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب دنیا کی بڑی جمہوریتیں مشینوں پر عدم اعتماد ظاہر کر کے دوبارہ کاغذی بیلٹ کی طرف لوٹ چکی ہیں تو ہندوستان میں یہ ضد کیوں برقرار رکھی جا رہی ہے۔




