نئی دہلی کے معروف احتجاجی مقام جنتر منتر پر ملک کی مختلف ریاستوں میں مساجد، مدارس، درگاہوں اور وقف جائیدادوں کے خلاف جاری بلڈوزر کارروائیوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے والے مظاہرین کو دہلی پولیس نے باضابطہ اجازت نہ ہونے کا جواز بنا کر حراست میں لے لیا۔ مانیٹرنگ کمیٹی فار انڈین مسلمز (ایم سی آئی ایم) کے پرچم تلے منعقد ہونے والے اس مظاہرے میں ہندو، سکھ، عیسائی اور مسلم برادری سمیت تمام مذاہب کے نمائندوں، سول سوسائٹی کے ارکان اور اپوزیشن جماعتوں کے مسلم اراکین پارلیمنٹ نے مشترکہ طور پر شرکت کی۔ مظاہرین جیسے ہی نعرے بازی کرتے ہوئے دھرنے کی مخصوص جگہ کی جانب بڑھے، پولیس کی بھاری نفری نے رکاوٹیں کھڑی کر کے پیش قدمی روک دی اور متعدد سرکردہ رہنماؤں کو پولیس گاڑیوں میں منتقل کر دیا۔
اس احتجاج کا بنیادی ایجنڈا ملک کے مختلف حصوں میں بلدیاتی و عدالتی احکامات کی آڑ میں قدیم مذہبی مقامات کے انہدام اور الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران اقلیتی و پسماندہ رائے دہندگان کے نام مبینہ طور پر خارج کیے جانے کے خلاف آواز اٹھانا تھا۔ منتظمین کے مطابق اس اقدام کا واحد مقصد اقلیتوں کے مذہبی وجود، آئینی مساوات اور ملک کی صدیوں پرانی گنگا جمنی تہذیب کے تحفظ کے معاملے کو قومی سطح پر لانا تھا۔ مظاہرے میں شامل مختلف مذاہب کے رہنماؤں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ عبادت گاہوں کی حرمت اور آئینی حقوق کے تحفظ کا تعلق کسی ایک طبقے سے نہیں بلکہ پورے ملک کے جمہوری اور سیکولر ڈھانچے کی بقا سے جڑا ہوا ہے۔
دہلی پولیس نے صبح سے ہی ابوالفضل انکلیو میں واقع جماعت اسلامی ہند کے مرکزی دفتر اور اطراف کے علاقوں میں سیکورٹی کے سخت حصار قائم کر رکھے تھے تاکہ قائدین کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔ تمام تر انتظامی پابندیوں اور بیریکیڈنگ کے باوجود سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق، مانیٹرنگ کمیٹی کے اراکین اور دیگر سرکردہ شخصیات جنتر منتر پہنچنے میں کامیاب ہو گئیں۔ حراست کے دوران رہنماؤں نے اعلان کیا کہ پرامن احتجاج کسی بھی جمہوری معاشرے میں شہریوں کا بنیادی آئینی حق ہے، اور جب تک اوقافی اراضی، مساجد کے تقدس اور عام شہریوں کے ووٹ کے حق کو تحفظ نہیں ملتا، وہ تمام جمہوری اور قانونی فورمز پر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
ملک میں وقف ترمیمی بل، تاریخی مساجد پر قانونی تنازعات اور انتخابی فہرستوں میں شفافیت کے فقدان نے اقلیتی طبقات کے اندر گہری بے چینی پیدا کر دی ہے۔ جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سمیت کئی قومی رہنماؤں نے بھی اس معاملے پر تمام انصاف پسند شہریوں سے اقلیتوں کی آواز بننے کی اپیل کی تھی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ مذہبی مقامات پر یکطرفہ بلڈوزر کارروائیاں اور انتخابی لسٹوں سے منظم اخراج نہ صرف اقلیتوں کے معاشی و مذہبی وجود کو خطرے میں ڈال رہے ہیں بلکہ آئین ہند کے دیے گئے مساوات کے رہنما اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
سول سوسائٹی اور قانونی ماہرین نے پرامن مظاہرین اور منتخب عوامی نمائندوں کے جمہوری حق پر قدغن لگانے اور انہیں حراست میں لینے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مانیٹرنگ کمیٹی فار انڈین مسلمز کے ذمہ داران نے واضح کیا ہے کہ وہ دہلی پولیس کی اس کارروائی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے اور ملک کے طول و عرض میں مشترکہ تہذیب، مذہبی آزادی اور جمہوری حقوق کے دفاع کے لیے پرامن اور قانونی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔




