سہراب الدین فرضی انکاؤنٹر کیس: 92 گواہوں کے منحرف ہونے پر سپریم کورٹ کی شدید تشویش

ہندوستان کے انتہائی متنازعہ اور کثیر چہیتے سہراب الدین شیخ فرضی انکاؤنٹر کیس میں سپریم کورٹ آف انڈیا نے منگل کے روز ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ کی جانب سے اکیس پولیس اہلکاروں سمیت بائیس ملزمین کو بری کیے جانے کے فیصلے کے خلاف دائر عرضی پر باقاعدہ نوٹس جاری کر دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اس سنسنی خیز مقدمے کی سماعت کے دوران بیانوے اہم گواہوں کے یکے بعد دیگرے اپنے بیانات سے منحرف ہو جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ جسٹس باغچی کی سربراہی والی بنچ نے واضح کیا کہ اتنی بڑی تعداد میں گواہوں کا اپنے اصل بیانات سے پھر جانا نظامِ انصاف کے لیے انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔

عدالتی کارروائی کے دوران درخواست گزار کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل ڈی ایس نائیڈو نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ محض کوئی عام قانونی تنازع نہیں بلکہ ایک منظم فرضی انکاؤنٹر کا بھیانک معاملہ تھا، جس میں پولیس اہلکاروں نے غیر قانونی حراست کے بعد سہراب الدین، ان کی اہلیہ کوثر بی اور دوست تلسی رام پرجاپتی کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ وکیل نے بنچ کو بتایا کہ کیس کے اندر ٹھوس فارینسک شواہد، گولیوں کے زخم اور جائے وقوعہ سے ملنے والے کارتوس موجود تھے جو پوری واردات کی حقیقت کھول سکتے تھے، لیکن نچلی عدالتوں میں گواہوں کے بیانات کو دباؤ یا اثر و رسوخ کے تحت بدلوایا گیا، جس کے نتیجے میں ملزمین کو بری کر دیا گیا۔

بنچ نے دلائل کی سماعت کے دوران اعتراف کیا کہ عدالتی ریکارڈ پر موجود نوے سے زائد گواہوں کا اچانک ہوسٹائل ہو جانا ایک غیر معمولی اور سنگین امر ہے، اور عدالت اس نکتے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے بعض کلیدی گواہوں کے بیانات کا تفصیلی اور ازسرنو جائزہ لینا چاہتی ہے۔ بنچ نے بائیس ملزمین کی رہائی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے تمام فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے۔ تاہم سپریم کورٹ نے کیس کے پیراگراف تینتالیس کے تحت مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو ماضی میں تمام الزامات سے بری کیے جانے کے فیصلے کو دوبارہ کھولنے سے صاف انکار کر دیا اور قرار دیا کہ یہ آئینی پہلو پہلے ہی طے پا چکا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کے گوش گزار کیا کہ متاثرہ خاندان سن دو ہزار دس سے مسلسل انصاف کے حصول کے لیے قانونی جدوجہد میں مصروف ہے اور انہی کی مسلسل کوششوں کی بدولت اس معاملے کی جانچ سی بی آئی کو سونپی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب ریاست کے نگہبان ادارے ہی شہریوں کے تحفظ کے بجائے ماورائے عدالت قتل کی سازشوں میں ملوث ہوں اور قانونی عمل کو گواہوں کو منحرف کر کے سبوتاژ کیا جائے تو اعلیٰ عدلیہ کی مداخلت ہی واحد امید بن جاتی ہے۔ بنچ کے سامنے یہ دلخراش پہلو بھی رکھا گیا کہ سہراب الدین کی اہلیہ کے متعلق اب تک کوئی مصدقہ سراغ نہیں مل سکا ہے۔

شیئر کریں۔