معروف پولیٹیکل کارٹونسٹ ستیش آچاریہ کا انسٹاگرام اکاؤنٹ ہندوستان میں بلاک

ہندوستان کے معروف سیاسی کارٹونسٹ ستیش آچاریہ کا انسٹاگرام اکاؤنٹ اٹھائیس ستمبر سے ملک بھر میں صارفین کے لیے غیر فعال کر دیا گیا ہے۔ بھارت کے اندر سے ان کے پروفائل تک رسائی کی کوشش کرنے والے صارفین کو پلیٹ فارم کی جانب سے یہ اطلاع دی جا رہی ہے کہ مقامی قانونی تقاضوں کی تعمیل میں اس اکاؤنٹ تک رسائی عارضی طور پر محدود کر دی گئی ہے۔ اس کارروائی میں میٹا کی جانب سے یہ صراحت نہیں کی گئی کہ پورا اکاؤنٹ مسدود کرنے کا مخصوص سبب کیا تھا یا کس قانون نافذ کرنے والے ادارے کے حکم پر یہ اقدام اٹھایا گیا۔

اس اچانک سنسرشپ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ستیش آچاریہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شدید احتجاج درج کرایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سال دو ہزار تئیس کے دوران شائع ہونے والے ان کے پرانے کارٹونز پر بھی اچانک قدغنیں لگائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں برسرِ اقتدار نظام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ڈر کے آگے جیت نہیں ہے اور برسوں پرانے تنقیدی فن پاروں کو روک کر حقیقت کو چھپایا نہیں جا سکتا۔

پابندی کی زد میں آنے والے مواد میں جنوبی ہند کے نیوز پلیٹ فارم ساؤتھ فرسٹ کے لیے تیار کردہ وہ مخصوص کارٹون بھی شامل ہے جس میں الیکشن کمیشن سے جڑی ایک تفتیشی رپورٹ کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی پر طنز کیا گیا تھا۔ نیوز ادارے کے آفیشل انسٹاگرام پیج سے بھی اس کارٹون کو بھارت میں ہٹا دیا گیا ہے۔ انسٹاگرام کے نوٹس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 79 کی شق کا حوالہ دیا گیا ہے جس کے تحت حکومت یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فرمائش پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز مواد کو چھپانے کے پابند ہوتے ہیں، تاہم متعلقہ سرکاری حکم نامے کو عوام کے سامنے نہیں لایا گیا۔

ستیش آچاریہ کے صحافتی کام کے خلاف حکومتی سطح پر یہ پہلا قدغن نہیں ہے۔ مارچ دو ہزار چھبیس میں مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ایکس نے وزارت الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ہدایت اور آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 69 اے کے تحت ان کے دو کارٹونز پر بھارت میں پابندی عائد کر دی تھی، جن میں مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور ہندوستانی خارجہ پالیسی کے متنازع پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا تھا۔ آچاریہ طویل عرصے سے یہ نشاندہی کرتے رہے ہیں کہ حکمران طبقے کی پالیسیوں یا اقلیتوں کے تحفظ سے متعلق آواز اٹھانے والے فن پاروں کو نشانہ بنانے کا ایک منظم سلسلہ جاری ہے۔

ڈیجیٹل رائٹس کے نگران اداروں کے مطابق بھارت میں انٹرنیٹ سنسرشپ انتہائی تشویشناک رفتار اختیار کر چکی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چند ہی مہینوں کے اندر انسٹاگرام، فیس بک اور یوٹیوب کو لاکھوں پوسٹس مسدود کرنے کے احکامات بھیجے گئے، جس کا اوسط ہر اڑسٹھ سیکنڈ میں ایک حکم بنتا ہے۔ شفافیت کے فقدان اور احکامات کو خفیہ رکھنے کے رجحان نے جمہوریت پسند حلقوں میں یہ خدشہ پختہ کر دیا ہے کہ سخت گیر قوانین کا سہارا لے کر اختلاف رائے اور تنقیدی صحافت کا راستہ روکا جا رہا ہے۔

آزادی اظہار پر قدغنیں اقلیتی اور پسماندہ طبقات کے بنیادی حقوق کو سنگین نقصان پہنچاتی ہیں، کیونکہ کارٹون اور صحافت ہی ان محروم حلقوں کی مشکلات اور مطالبات کو ایوان اقتدار تک پہنچانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنان نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عوامی فورمز کو بلا جواز سینسر کرنے کا سلسلہ جمہوری روایات کے زوال کا پتہ دیتا ہے۔

شیئر کریں۔