نئی دہلی میں سپریم کورٹ آف انڈیا نے ملک بھر میں جان بچانے والی ادویات کی من مانی قیمتوں اور پرائیویٹ اسپتالوں کی بے لگام منافع خوری پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت ریمارکس دیے ہیں۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل دو رکنی بنچ نے فارما کمپنیوں، ڈسٹری بیوٹرز اور کارپوریٹ اسپتالوں کے اس گٹھ جوڑ کو کٹہرے میں کھڑا کیا جس کے تحت ادویات کی اصل لاگت اور پرنٹ ریٹ میں زمین آسمان کا فرق رکھا جا رہا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ بیماری اور پریشانی میں مبتلا عام شہریوں پر اس غیر معقول معاشی بوجھ کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
سماعت کے دوران عدالت نے ادویات کی خرید قیمت اور زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت (ایم آر پی) کے درمیان پائی جانے والی ہوشربا خلیج کے واضح اعداد و شمار سامنے رکھے۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ ایکزمٹیا 20 ایم جی انجیکشن کی خوردہ فروش کے لیے خریداری قیمت محض 3,520 روپے ہے، جبکہ عام مریض کو یہی انجیکشن 22,437 روپے کی چھپی ہوئی قیمت پر بیچا جا رہا ہے۔ اسی طرح کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی بعض ادویات کی لاگت تقریباً 3,000 روپے ہوتی ہے لیکن ان پر 27,000 روپے کا ایم آر پی لیبل چسپاں کر کے دس گنا زائد وصولی کی جا رہی ہے۔ بنچ نے استفسار کیا کہ آخر اس وسیع فرق سے ہونے والا بھاری منافع کس کی جیب میں جاتا ہے۔
جسٹس سندیپ مہتا نے کارپوریٹ اسپتالوں کے سخت اور غیر انسانی رویے کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ نجی طبی مراکز مریضوں اور ان کے لواحقین کو ہسپتال کے اندرونی کیمسٹ سے ہی مہنگی دوائیں خریدنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اگر کوئی غریب یا متوسط شہری باہر کی دکان سے وہی دوا کم قیمت پر خرید لائے تو اسپتال اس کے استعمال سے انکار کر دیتا ہے یا علاج کی گارنٹی نہیں دیتا، جس سے عام آدمی کے ذہن میں دوا کے اصلی یا نقلی ہونے کا غیر ضروری شک پیدا کر دیا جاتا ہے۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ بل ادا نہ ہونے کی صورت میں میت کو روک لینے جیسی غیر اخلاقی روایات بھی سامنے آئی ہیں، جو انسانی وقار کے سراسر منافی ہیں۔
عدالت عظمیٰ نے اس بحران کا قابلِ عمل حل پیش کرتے ہوئے مرکز پر زور دیا کہ ڈرگز پرائس کنٹرول آرڈر (ڈی پی سی او) کے تحت تمام ضروری ادویات اور میڈیکل آلات پر زیادہ سے زیادہ تجارتی مارجن کو 16 فیصد تک محدود کیا جانا چاہیے۔ سماعت میں سالیسٹر جنرل تشار مہتا اور ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایشوریہ بھاٹی نے ریگولیٹری فریم ورک کا جائزہ پیش کیا اور اعتراف کیا کہ مساوات قائم کرنے کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومتی نمائندوں نے یقین دہانی کرائی کہ اس حساس نوعیت کے مسئلے پر متعلقہ وزارتوں اور پالیسی سازوں کے ساتھ اعلیٰ سطحی میٹنگ کر کے ٹھوس لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ملک میں صحت عامہ کے اخراجات لاکھوں خاندانوں کو خط غربت سے نیچے دھکیل دیتے ہیں، جس میں ادویات کی غیر منصفانہ قیمتیں سب سے بڑا سبب ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس پورے نظام کو عوام اور ٹیکس دہندگان کے پیسوں کا صریح استحصال قرار دیا ہے، کیونکہ سرکاری ہیلتھ انشورنس اسکیموں کے ذریعے بھی انہی غیر حقیقی بلند قیمتوں کی ادائیگی سرکاری خزانے سے کی جاتی ہے۔ عدالت نے اب اس اہم آئینی و عوامی معاملے کی اگلی سماعت اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں مقرر کر دی ہے، جہاں ریگولیٹری اصلاحات کے حوالے سے حکومت سے ٹھوس جواب طلب کیا جائے گا۔




