اجین میں شاہی مسجد کے توسیعی حصے کو ہٹانے پر تصادم: مسلم نوجوان پر وحشیانہ تشدد، 15 افراد گرفتار اور 7 پر سنگین مقدمات درج

مدھیہ پردیش کے تاریخی شہر اجین کے چھتری چوک علاقے میں پیر کے روز تاریخی شاہی مسجد کے جزوی توسیعی حصے کو ہٹانے کے معاملے پر شدید کشیدگی پھیل گئی، جس کے دوران ایک نہتے مسلم نوجوان پر سرعام تشدد کا سنگین واقعہ پیش آیا۔ حالات پر قابو پانے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔ انتظامیہ نے اب تک پندرہ افراد کو گرفتار کرنے جبکہ سات دیگر افراد کے خلاف باقاعدہ فوجداری مقدمات درج کرنے کی تصدیق کی ہے۔ علاقے میں بدستور ڈھائی ہزار سے زائد پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس کے اہلکار گشت کر رہے ہیں۔

یہ کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب مسجد انتظامیہ، مقامی مسلم نمائندوں اور شہری انتظامیہ کے درمیان رات گئے ہونے والے ایک تحریری معاہدے کے تحت کارروائی جاری تھی۔ طے شدہ فیصلے کے تحت مسجد کمیٹی کے اراکین خود ہی اپنی نگرانی میں مسجد کے نو فٹ لمبے اور چار فٹ چوڑے اس تعمیری حصے کو ہٹا رہے تھے جو سڑک کی توسیع کی زد میں آ رہا تھا۔ کنٹھال چوراہے سے گوپال مندر تک ایک کلومیٹر طویل سڑک کو سنہستھ 2028 کے انتظامات کے تحت کشادہ کیا جا رہا ہے، جس کے لیے متعدد رہائشی اور تجارتی ڈھانچے ہٹائے جا چکے ہیں۔ کمیٹی کے پرامن تعاون کے باوجود صبح ساڑھے نو بجے کے قریب تنگ گلیوں سے مجمع اکٹھا ہوا اور رکاوٹوں پر پتھراؤ شروع ہو گیا۔

ہنگامے کے دوران سوشل میڈیا پر ایک انتہائی تشویشناک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں کچھ افراد کا ہجوم ایک مسلم نوجوان کو دوڑا کر بے دردی سے پیٹتا دکھائی دے رہا ہے۔ ویڈیو میں متاثرہ نوجوان مسلسل چیخ کر اپنی بے گناہی کی دہائی دیتا رہا کہ اس کا اس تنازع سے کوئی تعلق نہیں، لیکن حملہ آوروں نے اس کی ایک نہ سنی۔ اس واقعے نے اقلیتی حلقوں میں گہری بے چینی پیدا کر دی ہے اور پولیس کی یکطرفہ کارروائی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ دوسری طرف مکوڑیا عام ناکہ کے قریب خواتین کے ایک گروپ نے بھی راستے بند کر کے صدائے احتجاج بلند کی، جس کے دوران کرائم برانچ کا ایک انسپکٹر زخمی ہوا۔

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے اس معاملے پر دائر دو اپیلوں کو فریقین کے مابین باہمی مفاہمت کی بنیاد پر نمٹا دیا تھا۔ اس سے قبل سنگل بنچ نے میونسپل کارپوریشن کے نوٹس کو برقرار رکھا تھا۔ تنازع کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اجین کے کلکٹر روشن سنگھ اور شہر قاضی خلیق الرحمٰن نے مشترکہ طور پر عوام سے امن و امان برقرار رکھنے اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی اشتعال انگیز افواہوں پر کان نہ دھرنے کی اپیل کی۔ ادھر سیاسی حلقوں اور عام آدمی پارٹی کے رہنما امانت اللہ خان نے انتظامی کارروائی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کی آڑ میں مسلم املاک اور عام شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ پردیپ شرما نے دعویٰ کیا ہے کہ صورتحال بگاڑنے کی کوشش کرنے والے عناصر کی شناخت کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں اور ڈرون فوٹیج کی جانچ جاری ہے۔ سوشل میڈیا پر اشتعال پھیلانے کے الزام میں انفلوئنسرز پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان اور مقامی مسلم تنظیموں نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ پولیس جہاں امن و امان قائم رکھے، وہیں ویڈیو میں معصوم نوجوان کو سرعام تشدد کا نشانہ بنانے والے حقیقی مجرموں کو بھی بلا امتیاز فوری گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

شیئر کریں۔