ہندوستان کے انتخابی نظام اور آئینی اداروں کے طریقہ کار پر کھڑے ہونے والے سنگین تنازع نے اب عدالت عظمیٰ کا رخ کر لیا ہے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف دائر کردہ ایک غیر معمولی آئینی درخواست پر اگلے ہفتے باقاعدہ سماعت کرنے پر رضامند ہو گئی ہے۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے دیگر الیکشن کمشنروں کی رضامندی اور قانونی تقاضوں کو پس پشت ڈال کر یکطرفہ طور پر دور رس فیصلے نافذ کیے۔ سینئر وکیل وکاس سنگھ کی جانب سے چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ کے روبرو فوری نوعیت کے اس معاملے کی فہرست بندی کی استدعا کی گئی، جس پر عدالت نے کیس کو سماعت کے لیے منظور کر لیا۔
آئین ہند کے آرٹیکل 32 کے تحت راکیش کمار سنگھ نامی شہری کی جانب سے دائر اس پٹیشن میں چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز ایکٹ 2023 کی دفعہ 18 کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس شق کے مطابق انتخابی پینل کے تمام فیصلے باہمی مشاورت اور اتفاق رائے سے طے پانے چاہئیں، اور رائے کے اختلاف کی صورت میں اکثریت کا اصول لازمی ہونا چاہیے۔ درخواست گزار کا دعویٰ ہے کہ اکتوبر 2025 سے اگست 2026 کے عرصے میں الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور الیکشن کمشنر وویک جوشی نے کم از کم چودہ مختلف حساس معاملات پر تحریری اختلافی نوٹس قلمبند کیے۔ الزامات کے مطابق ان اہم اعتراضات کے باوجود ایسے انتظامی اقدامات اٹھائے گئے جنہیں دونوں کمشنروں نے کمیشن کی اجتماعی توثیق کے بغیر قرار دیا ہے۔
اس پورے قضیے کا سب سے نزاعی پہلو انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) اور جولائی 2026 میں ووٹر رجسٹریشن سے جڑے فارم 6 میں کی گئی تبدیلیاں ہیں۔ درخواست کے مطابق فارم 6 کے اندر شہریوں سے ان کے والدین یا دادا دادی کے نام گزشتہ ایس آئی آر لسٹ میں ہونے کے شواہد طلب کیے گئے، جس پر کمشنر وویک جوشی اور سکھبیر سنگھ سندھو دونوں نے اصولی اعتراض درج کروایا تھا۔ ناقدین اور قانونی ماہرین کے نزدیک ایسی شرائط سے دور دراز کے پسماندہ طبقات اور اقلیتی برادریوں کے حق رائے دہی متاثر ہونے کا شدید خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ مغربی بنگال میں عدالتی احکامات کے تحت شامل کیے گئے 16 لاکھ سے زائد ووٹرز کے خلاف اپیلیں دائر کرنے کی مجاز منظوری پر بھی شکوک و شبہات اٹھائے گئے ہیں۔
درخواست گزار نے عدالت عظمیٰ سے استدعا کی ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو ان کے منصب سے الگ کیا جائے اور کمیشن کے تمام اندرونی دفتری نوٹس، ڈیجیٹل ریکارڈز، فیصلوں کی فائلوں اور دستاویزات کو فوری طور پر ضبط کر کے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔ پٹیشن میں سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں ایک آزاد عدالتی تحقیقاتی کمیشن یا خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) قائم کرنے کی اپیل بھی کی گئی ہے، تاکہ یہ شفاف جانچ ہو سکے کہ ملک گیر اثرات رکھنے والے حساس انتخابی فیصلے کس قانونی اور انتظامی دائرہ کار کے تحت لیے گئے۔
شفاف اور آزادانہ حق رائے دہی کسی بھی جمہوری معاشرے کی شہ رگ ہوتا ہے، خاص طور پر جہاں لاکھوں کمزور اور محروم شہریوں کے آئینی وجود کا سوال ہو۔ الیکشن کمیشن جیسے آئینی نگہبان ادارے کے اندر یکطرفہ فیصلوں اور اندرونی مخالفت کی بازگشت نے انتخابی غیر جانبداری کے متعلق سنگین عوامی خدشات کو جنم دیا ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے اگلے ہفتے کی جانے والی ابتدائی کارروائی ملکی آئینی تاریخ میں انتخابی اداروں کی خود مختاری، شفافیت اور جمہوری احتساب کا ایک نیا رخ طے کر سکتی ہے۔




