سپریم کورٹ آف انڈیا نے اتر پردیش کے سنبھل میں پیش آئے پرتشدد واقعات کے تناظر میں ریاستی حکومت کے سخت اقدامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کیس کے مبینہ مرکزی ملزم ملا افروز پر نیشنل سیکورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت عائد کردہ احتیاطی حراست (پریوینٹو ڈیٹینشن) کو مکمل طور پر کالعدم کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو بھی خارج کر دیا جس میں اس نظربندی کو برقرار رکھا گیا تھا، جبکہ غیر قانونی حراستی اقدام پر اتر پردیش حکومت پر 10 لاکھ روپے کا بھاری جرمانہ عائد کیا۔
جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس شیل ناگو پر مشتمل دو رکنی بنچ نے فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا کہ پولیس تحویل میں لیے گئے کسی مبینہ اعترافی بیان کو اتنے سخت قانون کے تحت شخصی آزادی سلب کرنے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ عدالتی کارروائی کے دوران ملا افروز کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی حراست کا پورا دارومدار پولیس کی جانب سے لیے گئے زبردستی کے بیانات پر رکھا گیا ہے، اور محض مقدمات کا اندراج کسی شہری کو این ایس اے کے تحت قید رکھنے کے لیے قانونی طور پر ناکافی ہے۔ دوسری جانب یوپی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ امن و امان کے ممکنہ بگاڑ کو روکنے کے لیے یہ قدم ضروری تھا، جسے اعلیٰ عدالت نے مسترد کر دیا۔
یہ پورا معاملہ 24 نومبر 2024 کو سنبھل کی تاریخی شاہی جامع مسجد کے عدالتی سروے کے دوران برپا ہونے والے ہنگاموں سے جڑا ہے، جس میں فائرنگ اور تصادم کے نتیجے میں چار مسلم نوجوان جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے قریباً 54 دن بعد ملا افروز کو گرفتار کیا گیا تھا، جنہیں بعد ازاں الٰہ آباد ہائی کورٹ سے باقاعدہ ضمانت مل گئی تھی۔ ضمانت پر رہائی کے امکان کے فوری بعد ریاستی انتظامیہ نے 13 اکتوبر 2025 کو ان پر سخت گیر این ایس اے نافذ کر کے قید میں ڈال دیا، جسے اب سپریم کورٹ نے اختیارات کا صریح غلط استعمال قرار دیا ہے۔
عدالت نے 8 ستمبر کو فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے یہ اصولی سوال اٹھایا تھا کہ کیا قانون کے بنیادی اصولوں کو روند کر انتظامیہ صرف اپنے قیاس اور پولیس کے من گھڑت اعترافات پر کسی کی آزادی چھین سکتی ہے۔ جسٹس دیپانکر دتا نے فیصلہ سناتے ہوئے اپنے نوعمر لا کلرک کو خراج عقیدت بھی پیش کیا جن کا کچھ ہی روز قبل انتقال ہو گیا تھا، اور یہ فیصلہ ان کی یاد سے منسوب کیا۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ حکومت کی جانب سے لگائے گئے جرمانے کی رقم کے ذریعے متاثرہ شخص کو تلافی فراہم کی جائے۔
قانونی اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سنبھل تشدد کے بعد یکطرفہ پولیس کارروائیوں اور سنگین دفعات کے بے دریغ استعمال پر یہ عدالتی فیصلہ انتظامیہ کے احتساب کے حوالے سے انتہائی دور رس ثابت ہوگا۔ خاص طور پر اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو ضمانت ملنے کے فوراً بعد این ایس اے اور یو اے پی اے جیسے کالے قوانین کے تحت مسلسل جیلوں میں بند رکھنے کی روایت پر عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ ایک سخت قانونی قدغن لگاتا ہے۔




