نئی دہلی میں منعقدہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے مودی حکومت اور الیکشن کمیشن پر سخت الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ اقتدار ملک کے آئینی ڈھانچے کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ ملکارجن کھڑگے نے واضح الفاظ میں کہا کہ جس طرح پہلے نوٹ بندی کے ذریعے ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا گیا، بالکل اسی انداز میں اب نام نہاد ووٹ بندی کے ذریعے ہندوستانی جمہوریت کی بنیادوں پر وار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بزرگوں کی طویل جدوجہد سے حاصل ہونے والے حق رائے دہی کو گزشتہ بارہ برسوں میں منظم سازش کے تحت غیر محفوظ بنا دیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے الیکشن کمیشن کے طریقہ کار اور شفافیت پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر مکمل طور پر حکومتی دباؤ میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے حق رائے دہی کو آئین کی اصل روح قرار دیا تھا اور یہ اصول طے کیا تھا کہ کسی بھی مجاز افسر کی ذاتی مرضی سے ووٹرز کے نام حذف نہیں کیے جا سکتے، لیکن موجودہ دور میں انتخابی عملے اور افسران کے ذریعے مخصوص ووٹرز کے نام لسٹوں سے غائب کیے جا رہے ہیں۔ کھڑگے نے فارم 6 کے ضوابط میں مبینہ خاموش تبدیلیوں کو غیر قانونی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ روزگار فراہم کرنے میں ناکامی کے بعد اب شہریوں سے بنیادی جمہوری حق چھیننے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔
ملک کے کمزور طبقات، اقلیتوں اور عام شہریوں کے جمہوری تحفظ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کا نظریاتی ایجنڈا ملکی اداروں کی خودمختاری سلب کرنا ہے۔ کانگریس نے ماضی میں جن آئینی اداروں کو عوام کی خدمت اور تحفظ کے لیے بااختیار بنایا تھا، آج وہی ادارے برسرِ اقتدار قیادت کے اشاروں پر سر جھکائے نظر آتے ہیں۔ کھڑگے نے زور دے کر کہا کہ انتخابات میں ہار جیت ایک عارضی عمل ہے لیکن آئین اور ووٹ کا تقدس مستقل ہونا چاہیے، کیونکہ جمہوریت کا اصل طاقتور مرکز عام ووٹر ہے نہ کہ وزیر اعظم یا کوئی وزیر اعلیٰ۔
کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اس اہم اجلاس میں مودی حکومت اور انتخابی ادارے کے سامنے واضح مطالبات کا ایجنڈا رکھا گیا۔ کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ انتخابی فہرستوں میں ہونے والے تمام ردوبدل کا شفاف ڈیٹا عوام کے سامنے رکھا جائے اور جن افراد کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے ہیں، انہیں پیشگی اطلاع اور باقاعدہ قانونی اپیل کا پورا حق ملنا چاہیے۔ اس کے علاوہ تمام تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کو انتخابی ڈیٹا بروقت اور قابلِ رسائی فارمیٹ میں فراہم کرنے، بے ضابطگیوں کی شکایات پر غیر جانبدارانہ عدالتی یا وقتی جانچ بٹھانے اور انتخابی فیصلوں کو مکمل طور پر شفاف بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ووٹر لسٹوں سے ناموں کے اخراج کا معاملہ خاص طور پر پسماندہ اور اقلیتی طبقوں کے حوالے سے انتہائی حساس صورت اختیار کر چکا ہے، جہاں کسی بھی قسم کی انتظامی لاپرواہی یا من مانی ہزاروں جائز شہریوں کو ووٹ کے حق سے محروم کر سکتی ہے۔ کانگریس پارٹی نے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو محض سیاسی بیان بازی تک محدود نہیں رکھے گی بلکہ حق رائے دہی اور آئین کے تحفظ کے لیے پارلیمنٹ سے لے کر عوامی سطح تک قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔




