کرناٹک کےوزیراعلی کا چیف الیکشن کمشنر کی برطرفی اور گرفتاری کا مطالبہ

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ ہیرا پھیری اور بڑے پیمانے پر ووٹرز کے اخراج پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے صدر جمہوریہ سے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو فوری طور پر تحلیل کرنے کی اپیل کی ہے۔ بنگلورو کے تاریخی فریڈم پارک میں کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) کے زیر اہتمام منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی برطرفی اور ان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کر کے گرفتاری کا پُر زور مطالبہ کیا۔ اس مظاہرے میں سابق وزرائے اعلیٰ سدارمیا اور ویرپا موئیلی، کے پی سی سی صدر بی کے ہری پرساد اور اے آئی سی سی جنرل سکریٹری نصیر حسین سمیت کانگریس کے سرکردہ رہنما شریک تھے۔

ڈی کے شیوکمار نے چیف الیکشن کمشنر کو تضحیک آمیز انداز میں ’چیف سلیکشن کمشنر‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن پوری طرح سے بی جے پی کی کٹھ پتلی بن چکا ہے اور غریب شہریوں کو ان کے جمہوری حق سے محروم کر کے باضابطہ ووٹ چوری میں سہولت کاری کر رہا ہے۔ انہوں نے پرزور مطالبہ کیا کہ مشتبہ طور پر منعقد کرائے گئے تمام انتخابات کالعدم قرار دیے جائیں اور انتخابی فہرستوں کی شفافیت کے ساتھ دوبارہ نظرثانی کی جائے۔ وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ اس مبینہ دھاندلی کے خلاف تحریک ریاست کے ہر گاؤں تک لے جائی جائے گی اور نومبر و دسمبر میں ہونے والے مقامی بلدیاتی انتخابات بیلٹ پیپر کے ذریعے کرائے جائیں گے۔ انہوں نے اس سنگین معاملے پر بحث کے لیے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی رکھا۔

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کے پی سی سی صدر بی کے ہری پرساد نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنے آئینی اختیارات کا غلط استعمال کر کے جمہوریت کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کرناٹک کے ڈرافٹ الیکٹورل رول سے تقریباً 1.07 کروڑ ووٹرز کے نام خارج کر دیے گئے ہیں، جب کہ بہار میں 64 لاکھ اور مغربی بنگال میں لاکھوں ووٹرز کو نوٹس جاری کر کے ان کے نام معطل کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ راہل گاندھی نے آئین کے تحفظ اور آئینی اداروں کے غلط استعمال کے خلاف تحریک کی کال دی ہے اور کانگریس اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک چیف الیکشن کمشنر استعفیٰ نہیں دیتے۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ گزشتہ دس مہینوں کے دوران دو دیگر الیکشن کمشنرز نے چودہ مختلف مواقع پر اختلافی نوٹ لکھے مگر چیف الیکشن کمشنر نے یکطرفہ طور پر فیصلے مسلط کیے۔

سابق وزیر اعلیٰ سدارمیا نے بھی الیکشن کمیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انتخابی عمل سے متعلق سامنے آنے والے انکشافات نے جمہوریت پسند عوام کو گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی غیر شفاف انتخابی نظام اور ووٹ چوری کے سہارے اقتدار پر قابض ہوئے ہیں جس کی اخلاقی بنیاد ختم ہو چکی ہے۔ احتجاجی رہنماؤں نے سال 2023 میں الیکشن کمشنرز کی تقرری کے قانون میں کی گئی تبدیلی کو بھی ہدف تنقید بنایا جس کے تحت چیف جسٹس آف انڈیا کو سلیکشن کمیٹی سے باہر کر کے ایک مرکزی وزیر کو شامل کیا گیا تھا۔

انتخابی فہرستوں سے کروڑوں غریب، دلت اور اقلیتی ووٹرز کے نام غائب ہونے کے الزامات نے پورے ملک میں ایک نیا سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ کانگریس نے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو محض سیاسی بیان بازی تک محدود نہیں رکھے گی بلکہ عوامی تحریک اور عدالتی محاذ دونوں جگہ آئین کے تحفظ کی لڑائی لڑی جائے گی۔

شیئر کریں۔