الیکشن کمیشن آف انڈیا کے اندرونی کام کاج، چیف الیکشن کمشنر کے یکطرفہ فیصلوں اور انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی مہم (ایس آئی آر) سے جڑے ہوشربا انکشافات کے بعد ملک کے سرکردہ قانونی ماہرین اور سابق اعلیٰ بیوروکریٹس نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکلاء نے ادارے کے موجودہ طریقہ کار کو مکمل زوال سے تعبیر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ عوام کے جمہوری اور انتخابی حقوق کو پس پشت ڈالنا انتہائی سنگین معاملہ ہے جو ملکی وفاداری اور آئین سے کھلی بغاوت کے مترادف ہے۔ یہ ردعمل اس تحقیقاتی رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انکشاف ہوا کہ تین رکنی کمیشن کے دو الیکشن کمشنرز، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ دس ماہ کے دوران کم از کم چودہ مرتبہ اہم فیصلوں پر تحریری اعتراضات درج کرائے جنہیں مبینہ طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق دونوں کمشنرز نے نشاندہی کی کہ نئے ووٹرز کے اندراج کے لیے فارم نمبر چھ میں بغیر قانونی ترمیم کے تبدیلیاں کی گئیں، جبکہ الیکٹورل رجسٹریشن افسران کے اختیارات کو محدود کر کے پورے ڈاٹا بیس کو مخصوص ہاتھوں میں مرتکز کیا گیا۔ اس کے علاوہ مغربی بنگال میں عدالتی افسران کی جانب سے بحال کیے گئے ووٹرز کے خلاف اپیلیں دائر کرنے کی باضابطہ منظوری بھی دیگر دو کمشنرز سے نہیں لی گئی تھی۔ انکشافات کے بعد الیکشن کمیشن نے بدھ کے روز ایک پریس نوٹ جاری کیا، تاہم اس پر کسی بھی کمشنر کے دستخط موجود نہیں تھے، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ تمام انتظامی فیصلے قانونی دائرے میں کیے گئے ہیں اور اراکین کے مابین اختلاف رائے ایک معمول کا جمہوری عمل ہے۔
سپریم کورٹ کے سینئر وکیل سنجے ہیگڑے نے اس صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ چیف الیکشن کمشنر کو دیگر دو کمشنرز پر کوئی برتر قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے، بلکہ آئین کے تحت وہ محض برابر کے اراکین میں اول کا درجہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سن دو ہزار تئیس کے قانون کی دفعہ اٹھارہ کی رو سے کمیشن کے تمام فیصلے باہمی اتفاق رائے یا کم از کم اکثریت کی بنیاد پر ہونا لازمی ہیں۔ ہیگڑے کے مطابق اگر کمیشن نے باضابطہ اجلاس منعقد کیے بغیر یا دو کمشنرز کے تحریری مشوروں کو کچل کر یکطرفہ احکامات نافذ کیے ہیں تو یہ تمام کارروائیاں عدالتی جائزے کی زد میں آ سکتی ہیں، اور عدالت عظمیٰ انتخابی فہرستوں کی موجودہ متنازع نظرثانی مہم یعنی ایس آئی آر کو سرے سے کالعدم بھی قرار دے سکتی ہے۔
سینتالیس سالہ طویل انتظامی تجربہ رکھنے والے سابق آئی اے ایس افسر اور سابق رکن پارلیمنٹ جوہر سرکار نے ان انکشافات کو جمہوری تاریخ کا تاریک باب قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ انیس سو نوے کی دہائی میں چیف الیکشن کمشنر کے مطلق العنان اختیارات کو متوازن رکھنے کے لیے ہی تین رکنی کمیشن کی بنیاد رکھی گئی تھی، لیکن موجودہ دور میں ادارے کے اندرونی جمہوری توازن کو یکسر سبوتاژ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دو سینئر کمشنرز کا بار بار تحریری اعتراضات ریکارڈ کرانا ادارے کے اندر عدم اعتماد کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ آئین میں اس قسم کی کسی خصوصی اور مبہم نظرثانی مہم کی کوئی گنجائش ہی موجود نہیں ہے۔
انسانی حقوق کے معروف وکیل کولن گونسالویس نے انتخابی پینل کے موجودہ اندازِ کار کو آمرانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شفاف انتخابی نظام کو کمزور کرنا براہ راست عوام کے ساتھ دھوکہ دہی ہے۔ قانونی حلقوں کا ماننا ہے کہ ووٹر فہرستوں سے کروڑوں شہریوں بالخصوص اقلیتوں، پسماندہ طبقات اور غریب مزدوروں کے نام خارج کرنے کے خدشات اس وقت اور گہرے ہو جاتے ہیں جب خود نگران ادارے کے اندر شفافیت مفقود دکھائی دے۔ سپریم کورٹ میں چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کے قانون پر دو ججوں کے بنچ کا فیصلہ بھی اس بحران کے دوران سامنے آیا ہے، جس سے اس تنازع کا قانونی دائرہ مزید وسیع ہو چکا ہے۔
انتخابی نظام پر عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے اب یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ کمیشن کے اندرونی ریکارڈ اور تمام چودہ تحریری اعتراضات کو عوامی و عدالتی کٹہرے میں جانچا جائے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کسی بھی شہری کا بنیادی حق رائے دہی انتظامی آمریت کی نذر نہ ہو۔




