مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام کے ممتاز و مقبول مؤذن اور مکبر شیخ ابراہیم بن عادل حمزہ المدنی پیر 21 ستمبر کی علی الصباح 51 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کی ناگہانی رحلت کی خبر عام ہوتے ہی سعودی عرب سمیت پوری مسلم دنیا میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔ خادم حرمین شریفین کے ادارے، ائمہ و مؤذنین اور دنیا بھر کے مسلمانوں نے سوشل میڈیا پر ان کے انتقال پر دلی صدمے کا اظہار کرتے ہوئے ان کی بلندیِ درجات کے لیے دعائیں کی ہیں۔ ان کی نمازِ جنازہ پیر کے روز نمازِ عصر کے بعد بیت اللہ میں ادا کی گئی جس میں لاکھوں نمازیوں اور معتمرین نے شرکت کی، جس کے بعد انہیں تاریخی قبرستان جنت المعلیٰ میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
شیخ ابراہیم المدنی کی مسجد الحرام میں دی گئی آخری اذان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہی ہے جس میں خانۂ کعبہ کے روح پرور مناظر کے پس منظر میں ان کے مخصوص حجازی و مدنی لحن کی گونج سنی جا سکتی ہے۔ یہ الوداعی اذان پیر 11 ربیع الاول 1448 ہجری کو دی گئی تھی۔ ان کی آواز سالہا سال سے نہ صرف حرم مکی کے زائرین کے دلوں کو چھوتی رہی بلکہ عالمی نشریات کے ذریعے کروڑوں مسلمان ان کی تکبیرات اور اذانوں سے روحانی تسکین پاتے رہے ہیں۔
شیخ ابراہیم المدنی 1976ء میں مدینۃ المنورہ کے ایک دیندار اور علمی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے دادا حافظِ قرآن تھے جن کی صحبت نے ان کے اندر بچپن سے ہی قرآن کریم اور دینی خدمات کا گہرا شوق پیدا کیا۔ محض 15 برس کی عمر میں انہوں نے مدینہ منورہ کے محلے کی ایک مسجد سے اذان دینے کا آغاز کیا جہاں وہ دیگر ساتھیوں کے ساتھ باری باری یہ ذمہ داری سنبھالتے رہے۔ اعلیٰ تعلیم کے بعد تدریسی مصروفیات کی وجہ سے کچھ وقت مدینہ سے باہر رہے، لیکن اذان سے ان کا روحانی تعلق منقطع نہ ہوا اور انہوں نے 1428 ہجری میں دوبارہ باقاعدہ اذان دینا شروع کی، جس کے بعد ان کے حسنِ صوت اور پابندی کو دیکھتے ہوئے 1439 ہجری بمطابق 2017-18 میں انہیں باضابطہ طور پر مسجد الحرام کا مؤذن مقرر کیا گیا۔
مسجد الحرام کے 24 مستقل مؤذنین کی فہرست میں شامل شیخ ابراہیم المدنی روزانہ کے شیڈول کے تحت خدمات انجام دیتے تھے۔ انہیں خاص طور پر نمازِ فجر کی اذانِ اول اور فرض نمازوں کے دوران امام کی تکبیرات کو لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے پوری مسجد اور بیرونی صحنوں تک پہنچانے یعنی ‘مکبر’ کی ذمہ داری میں مہارت حاصل تھی۔ وہ مدینہ منورہ کے پرسکون اور مکہ مکرمہ کے باوقار و پرشکوہ روایتی طرزِ اذان کا دلنشین امتزاج رکھتے تھے، جو حرم کے ماحول کو مزید پرکیف بنا دیتا تھا۔
ایک معروف پوڈکاسٹ انٹرویو میں انہوں نے مسجد الحرام میں دی گئی اپنی اولین اذان کے لمحات کو یاد کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب انہوں نے پہلی بار کعبۃ اللہ کے سامنے مائیکروفون پر اللہ اکبر کہا اور لاکھوں طواف کرنے والوں کو دیکھا تو ان پر شدید رقت طاری ہو گئی تھی اور وہ یہ سوچ کر رو پڑے تھے کہ ان کی کیا بساط کہ وہ روئے زمین کے سب سے مقدس مقام پر اذان دینے کا شرف پا رہے ہیں۔ ان کی یہ خاکساری اور للہیت ان کی شخصیت کا نمایاں وصف رہی۔



