یوپی میں بی جے پی صدر نتن نبین کے استقبال کے لئے درجنوں بلڈوزروں کا استعمال، کانگریس کی بی جے پی پر کڑی تنقید

اتر پردیش کے شہر میرٹھ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے تنظیمی دورے کے دوران بلڈوزروں اور جے سی بی مشینوں کے ذریعے کیے گئے استقبال پر ریاست میں شدید سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ 21 ستمبر کو بی جے پی رہنما نتن نبین کے میرٹھ آمد پر ٹول پلازہ کے قریب درجنوں بلڈوزروں کو پارٹی کے پرچموں اور بینروں سے سجا کر قطار در قطار کھڑا کیا گیا تھا۔ اس غیر معمولی منظر عام پر آنے کے بعد کانگریس پارٹی نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوامی بے چینی اور تاجروں کے لیے خوف کی علامت قرار دیا ہے۔

اتر پردیش کانگریس کے ترجمان ابھیمنیو تیاگی نے بی جے پی کے اس طریقہ کار کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جس مشینری کو انتظامی انہدامی کارروائیوں اور تباہی سے منسوب سمجھا جاتا ہے، اسے سیاسی استقبال کا ذریعہ بنا کر ریاست کی قیادت عوام کو کیا پیغام دینا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست بھر میں چھوٹے تاجر اور عام شہری پہلے ہی انہدام کی مسلسل دھمکیوں اور بلڈوزر کارروائیوں کے خوف میں جی رہے ہیں۔ ایسی صورت میں اقتدار کی جانب سے بلڈوزروں کی عوامی سطح پر نمائش تاجر برادری اور معاشی طور پر کمزور طبقات میں عدم تحفظ کے احساس کو مزید گہرا کر رہی ہے۔

کانگریس نے مغربی اتر پردیش کے بنیادی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے زور دیا کہ سیاسی قیادت کو نمائشی تقریبات کے بجائے خطے کے سلگتے ہوئے معاملات پر توجہ دینی چاہیے۔ ترجمان نے مغربی اتر پردیش کے وکلا کے اس دیرینہ مطالبے کو اجاگر کیا جس میں الہ آباد ہائی کورٹ کی بینچ خطے میں قائم کرنے کی مسلسل مانگ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بی جے پی قیادت سے سوال کیا کہ کیا ان کے پاس عدالتی نمائندگی کے اس سنگین مسئلے، کسانوں کی فصلوں کی مناسب قیمتوں، ایم ایس پی اور گنے کی بقایا ادائیگیوں کے حل کے لیے کوئی ٹھوس جواب موجود ہے۔

ریاست میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری، سرکاری بھرتی کے امتحانات میں پیپر لیک کے مسلسل الزامات اور بنیادی اشیائے خور و نوش، تعلیم، علاج، انشورنس اور ٹول ٹیکس کی بڑھتی ہوئی شرحوں کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ عام اور متوسط طبقہ مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔ نتن نبین کا مغربی اتر پردیش کا دو روزہ دورہ تنظیمی میٹنگوں اور آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں سے متعلق بتایا جا رہا ہے، لیکن عوام زبانی دعووں اور طاقت کے مظاہروں کے بجائے اپنی روزمرہ کی معاشی و قانونی مشکلات کا عملی خاتمہ چاہتے ہیں۔

سیاسی و سماجی حلقوں کا موقف ہے کہ جمہوری نظام میں سیاسی سرگرمیوں کا مرکز عوامی مسائل کی شنوائی اور پسماندہ طبقات کو تحفظ فراہم کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ ایسے علامتی ہتھکنڈے اپنانا جن سے معاشرے میں جبر یا خوف کی فضا پیدا ہو۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے انتخابی معرکے میں اپوزیشن جماعتیں عوامی بنیادی ضروریات اور بلڈوزر پالیسی کو مرکزی سیاسی بحث بنانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

شیئر کریں۔