کل ہند مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے اسمبلی فلور لیڈر اکبر الدین اویسی نے تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کو مکتوب لکھ کر آلور شریف میں واقع درگاہ حضرت سید شاہ مخدوم بیابانیؒ سے منسلک 1,264 ایکڑ قیمتی وقف اراضی کے فوری تحفظ کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ خط میں حکومت سے زور دے کر کہا گیا ہے کہ آلور اول، دوم اور سوم کے تحت آنے والی اس اراضی کو تلنگانہ اسٹیٹ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن (ٹی ایس آئی آئی سی) یا کسی بھی تیسرے فریق کے سپرد کرنے کی تمام کوششیں فی الفور روکی جائیں تاکہ وقف کے مقاصد کو زک نہ پہنچے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، رنگا ریڈی ضلع کلکٹر کے لینڈ ایکوزیشن ڈپارٹمنٹ نے اراضی کی شفاف بحالی اور منصفانہ معاوضے کے قانون کے تحت اس وقف اراضی کو تحویل میں لینے کے لیے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر رکھا ہے۔ اس پیش رفت کے سامنے آنے پر تلنگانہ وقف بورڈ نے معاملے کو اقلیتی بہبود کے محکمے کے سامنے اٹھایا اور اعلیٰ حکام کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد ایک مفصل رپورٹ بھی پیش کی، لیکن الزامات کے مطابق محکمے کی جانب سے اس تاریخی وقف جائیداد کے تحفظ کے لیے اب تک کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔
اکبر الدین اویسی نے ریاست میں اوقافی املاک کے عمومی تحفظ کے لیے دی جانے والی وسیع تر یادداشت میں اس مسئلے کو نمایاں طور پر شامل کیا ہے۔ انہوں نے اپنے خط میں واضح کیا کہ اگر حکومت عوامی مفاد کے تحت کسی اراضی کو حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، تو اس پر عمومی حصولِ اراضی کے ضوابط کے ساتھ ساتھ وقف قوانین کے تمام تقاضے بلا کم و کاست لاگو ہونے چاہئیں۔ انہوں نے باور کرایا کہ ادارہ جاتی معاوضہ طے شدہ مارکیٹ ریٹ سے بڑھ کر ادا کیا جانا قانونی ضرورت ہے، اور اس پورے عمل میں اوقاف کے حقوق کا استحصال قطعی طور پر ناقابلِ قبول ہوگا۔
ریاست میں مسلم اوقافی جائیدادوں پر تجاوزات اور سرکاری و نجی اداروں کے ذریعے ان کی غیر قانونی منتقلی ایک طویل عرصے سے اقلیتی حلقوں میں اضطراب کا سبب بنی ہوئی ہے۔ تاریخی طور پر ریاست بھر میں ہزاروں ایکڑ اوقافی اراضی یا تو تنازعات کا شکار ہے یا ترقیاتی منصوبوں کے نام پر سرکاری کارپوریشنز کے حوالے کر دی گئی ہے۔ درگاہ حضرت سید شاہ مخدوم بیابانیؒ جیسے مقدس اور تاریخی مقامات سے وابستہ جائیدادیں نہ صرف مذہبی و روحانی اہمیت رکھتی ہیں بلکہ وہ غریبوں، یتیموں اور تعلیمی مقاصد کے لیے وقف ہوتی ہیں، جن کی حفاظت کرنا ریاستی انتظامیہ کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔
تاحال وزیر اعلیٰ کے دفتر یا اقلیتی بہبود کے محکمے کی جانب سے اس مکتوب پر باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا ہے اور نہ ہی صنعتی ادارے کو زمین منتقل کرنے کے جاری عمل پر فوری روک کا تحریری حکم ملا ہے۔ مسلم تنظیمیں اور قانونی ماہرین حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اس معاملے میں شفافیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف آلور شریف کی وقف اراضی کی منتقلی کا نوٹیفکیشن منسوخ کرے بلکہ تلنگانہ بھر کی تمام وقف املاک کے تحفظ کے لیے ایک جامع اور ٹھوس میکانزم وضع کرے۔




