مہاراشٹر کے دارالحکومت ممبئی میں واقع چھترپتی شیواجی مہاراج انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل 2 سے متصل ایک قدیم مسجد کو بی جے پی رہنما کے متنازع بیانات اور مہم کے بعد انتظامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن نے ایئرپورٹ حکام کو باضابطہ نوٹس جاری کرتے ہوئے مسجد کی پانی کی سپلائی لائن کو فوری طور پر منقطع کرنے یا سات دنوں کے اندر اسے ریگولرائز کرانے کی ہدایت دی ہے۔ یہ کارروائی بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق رکن پارلیمنٹ کریٹ سومیا کی جانب سے اٹھائے گئے ان الزامات کے بعد شروع کی گئی ہے جن میں انہوں نے مسجد کی اراضی اور واٹر سپلائی پر سخت متنازع اصطلاحات کا استعمال کرتے ہوئے سوالات کھڑے کیے تھے۔
میونسپل کارپوریشن نے ایئرپورٹ کے ایگزیکٹو انجینئر کو ارسال کردہ مراسلے میں موقف اپنایا ہے کہ مسجد کو فراہم کی جانے والی 15 ملی میٹر قطر کی پائپ لائن بلدیاتی ریکارڈ میں باقاعدہ طور پر درج نہیں ہے۔ شہری ادارے نے متنبہ کیا ہے کہ اگر مقررہ مدت کے اندر قانونی کارروائی مکمل نہ کی گئی تو میونسپل ایکٹ کے تحت پانی کا کنکشن منقطع کر دیا جائے گا۔ دوسری جانب بی جے پی رہنما کریٹ سومیا نے ایئرپورٹ اتھارٹی آف انڈیا کے چیئرمین کو خط لکھ کر الزام لگایا کہ تقریباً پانچ ہزار مربع فٹ اراضی اور تین ہزار مربع فٹ پر تعمیر عمارت کو مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر مسجد ٹرسٹ اور ایئرپورٹ کے متعلقہ ذمہ داروں کے خلاف سہار پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کرانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
سیاسی رہنما کی اس مہم کے بعد ممبئی میٹروپولیٹن ریجن ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے سہار پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ اراضی اور مبینہ غیر مجاز تعمیر سے متعلق حقائق کی جانچ کر کے تفصیلی رپورٹ پیش کرے۔ تاہم مقامی ذرائع اور نمازیوں کے مطابق یہ مسجد ایئرپورٹ کی توسیع اور جدید ٹرمینل کی تعمیر سے قبل کی ہے، جہاں ایئرپورٹ عملہ، مسافر اور مقامی شہری باقاعدگی سے نماز ادا کرتے رہے ہیں۔ بنیادی شہری سہولیات جیسے پینے کے پانی کی فراہمی کو سیاسی مہم جوئی کا نشانہ بنائے جانے سے شہریوں اور اقلیتی حلقوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔
مسلم حقوق اور مذہبی آزادیوں کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ عوامی نمائندوں کی جانب سے اقلیتی عبادت گاہوں کے خلاف بغیر کسی ٹھوس تحقیق کے متنازع اور اشتعال انگیز اصطلاحات کا استعمال معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ شہری حقوق کے کارکنوں نے تشویش ظاہر کی ہے کہ ترقیاتی پروجیکٹوں یا سرکاری اراضی کی جانچ کے نام پر صرف مخصوص مذہبی مقامات کو نشانہ بنانا اور ان کی بنیادی سہولیات بند کرنے کی دھمکیاں دینا شفاف انتظامیہ کے اصولوں کے خلاف ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق کسی بھی کنکشن یا دستاویز کی باقاعدگی ایک معمول کا انتظامی معاملہ ہے، جسے قانون کے دائرے میں رہ کر حل کیا جانا چاہیے نہ کہ اسے سیاسی الزام تراشی کا اکھاڑہ بنایا جائے۔ فی الوقت ایئرپورٹ حکام اور مسجد کی انتظامیہ کی جانب سے متعلقہ کاغذات اور اجازت ناموں کو سامنے لانے کے لیے قانونی چارہ جوئی کی تیاری کی جا رہی ہے تاکہ عبادت گاہ کے وقار اور وہاں آنے والے نمازیوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔




