مہاراشٹر کے دارالحکومت ممبئی میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت قید معروف نوجوان سماجی کارکن عمر خالد کی زندگی پر مبنی ایک دستاویزی فلم کی نجی اسکریننگ پولیس کے مبینہ دباؤ اور دھمکیوں کے بعد منسوخ کر دی گئی ہے۔ پروگرام کے منتظمین نے الزام عائد کیا ہے کہ ممبئی پولیس کے اہلکاروں نے سادہ لباس میں دو مختلف مقامات کے منتظمین کو ہراساں کیا اور تقریب منعقد نہ کرنے کے لیے شدید دباؤ ڈالا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، یہ اسکریننگ ہفتے کے روز طے تھی جس میں 40 سے 60 افراد کے لیے پیشگی رجسٹریشن رکھی گئی تھی اور یہ ’قیدی نمبر 626710 حاضر ہے‘ (Prisoner No. 626710 is Present) کے عنوان سے تیار کی گئی ایک غیر تجارتی دستاویزی فلم تھی۔ پروگرام کی منتظم شرشٹی کھنہ اور پرشانت پنڈیر کے مطابق، جب پہلے مقام پر بعض وجوہات کی بنا پر بات نہ بنی تو انہوں نے دوسرے مقام پر ہال بک کر کے انتظامات مکمل کر لیے تھے۔ جمعہ کی شام تقریباً سات بجے مبینہ طور پر سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکار وہاں پہنچے اور مینیجر سے سخت بازپرس شروع کر دی۔
منتظمین کے مطابق پولیس کی جانب سے مینیجر پر مبینہ دباؤ ڈالا گیا اور ایک اعلیٰ پولیس افسر کی فون کال کے بعد پولیس کی گاڑی بھی موقع پر پہنچ گئی۔ اس صورتحال کے باعث پریشان حال ہال مینیجر نے منتظمین کو آگاہ کیا کہ وہ اس تقریب کی اجازت جاری نہیں رکھ سکتے۔ منتظمین نے واضح کیا کہ یہ کوئی عوامی جلسہ، سڑکوں پر مظاہرہ یا غیر قانونی مجمع نہیں تھا بلکہ ایک باقاعدہ فیس ادا کر کے کرائے پر لیے گئے نجی ہال میں پیشگی رجسٹرڈ حاضرین کے لیے فکری و دستاویزی نشست تھی۔ حیران کن طور پر تقریب منسوخ ہو جانے کے بعد بھی پولیس اہلکار اس پہلی جگہ بھی پہنچے جہاں ابتدائی طور پر بات چیت ہوئی تھی، حالانکہ سوشل میڈیا پر مقامات کی کوئی تفصیل عام نہیں کی گئی تھی۔
عمر خالد کو 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کی مبینہ سازش کے مقدمے میں یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور وہ گزشتہ چھ برسوں سے جیل میں قید ہیں۔ انسانی حقوق کی ملکی و بین الاقوامی تنظیمیں اس بات پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں کہ بغیر ٹرائل کے اتنے طویل عرصے تک ایک اقلیتی نوجوان دانشور کو جیل میں رکھنا آئینی ضمانتوں کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔ اس دستاویزی فلم میں انہی قانونی پہلوؤں، انسانی حقوق اور جیل میں قید کارکن کی زندگی کے احوال کو دستاویزی شکل میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
سول سوسائٹی، قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے حامیوں نے اس واقعے کو اظہارِ رائے کی آزادی اور آئینی حقوق پر حملہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پرامن طریقے سے کسی دستاویزی فلم کو دیکھنا یا خیالات کا تبادلہ کرنا کسی بھی صورت میں امن و امان کا مسئلہ نہیں بن سکتا۔ اس قسم کی خفیہ مداخلتوں سے یہ تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ اختلافِ رائے رکھنے والوں، اقلیتی حقوق کی آواز اٹھانے والوں اور ان کی حمایت میں بولنے والے شہریوں کو مسلسل خوف کی فضا میں رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ فی الوقت ممبئی پولیس کمشنر کے دفتر کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا ہے۔




