کھانے کے انتخاب، شاعری اور سوشل میڈیا پوسٹس پر فوجداری مقدمات مضحکہ خیز : جسٹس اجل بھویان

سپریم کورٹ آف انڈیا کے جج جسٹس اجل بھویان نے ملک میں شہریوں کے بنیادی حقوق، اظہارِ رائے کی آزادی اور روزمرہ کے معمولات پر درج کیے جانے والے غیر ضروری فوجداری مقدمات پر سخت تنقید کی ہے۔ نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں منعقدہ ایک سیمینار کے دوران انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ کھانے کے انتخاب، شاعری پڑھنے، دوسروں کی ضمانت مانگنے والے نعروں، سوشل میڈیا پوسٹس، مظاہروں، اسٹینڈ اپ کامیڈی اور کتابوں و فلموں کے عنوانات پر فوجداری کارروائیوں کا آغاز کرنا نظامِ انصاف کے لیے مضحکہ خیز اور عقل کی توہین کے مترادف ہے۔

سینٹر فار ڈسکورس آن کریمنل اینڈ کانسٹیٹیوشنل جیورسپروڈنس کے زیر اہتمام منعقدہ اس تقریب میں جسٹس بھویان نے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ نیشنل جوڈیشل ڈیٹا گرڈ کے مطابق ملک میں 4.27 کروڑ سے زائد فوجداری مقدمات زیرِ التوا ہیں، جن میں 95 فیصد بوجھ نچلی عدالتوں پر ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پولیس اور تفتیشی ادارے یہ جانتے ہوئے بھی چارج شیٹ داخل کرتے ہیں کہ مقدمہ بے بنیاد ہے، جس کے نتیجے میں واقعی توجہ طلب اور سنگین مقدمات پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے نچلی عدالتوں میں بے بنیاد قانونی چارہ جوئی کو ختم کرنے کے لیے ایک خصوصی مہم اور غیر سنگین نوعیت کے معاملات میں ایک بار عام معافی دینے کی تجویز بھی پیش کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس بھویان نے ملک میں ماورائے عدالت قتل اور حراستی تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ اس مفروضے پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ 1997 کے تاریخی ڈی کے باسو فیصلے کے بعد پولیس تشدد میں کمی آئی تھی۔ انہوں نے رات کے وقت ملزمان کو جائے وقوع پر لے جانے کے روایتی پولیس بہانوں اور مبینہ مقابلوں پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے تفتیشی نظام اور پیشہ ورانہ پولیسنگ کی کھلی ناکامی قرار دیا۔ نوجوان پولیس افسران کی جانب سے مظاہرین کے ساتھ ذاتی دشمنی جیسا رویہ اپنانے پر بھی انہوں نے ناپسندیدگی ظاہر کی۔

سرکاری وکلاء کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے جج نے زور دیا کہ پراسیکیوٹرز کو انتظامیہ کے دباؤ کے بجائے اپنے آزادانہ ضمیر اور قانونی بصیرت کے تحت فیصلے لینے چاہئیں۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ موجودہ دور میں انتظامی احکامات کے سامنے ڈٹ جانے والے دیانتدار سرکاری وکلاء کی تعداد قلیل رہ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کا اعتماد نظامِ عدل پر تبھی قائم رہ سکتا ہے جب سزائیں منصفانہ اصولوں پر حاصل کی جائیں اور بریت پر فریقین کو مکمل دیانتداری کا یقین ہو۔

اس کانفرنس سے جسٹس ابھے ایس اوکا اور دہلی ہائی کورٹ کے جج جسٹس امت شرما سمیت بار کے سرکردہ اراکین نے بھی خطاب کیا۔ قانونی اور سماجی مبصرین کا خیال ہے کہ سپریم کورٹ کے معزز جج کے یہ ریمارکس اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ شہریوں، بالخصوص اقلیتوں اور اختلافِ رائے رکھنے والے طبقات کو معمولی باتوں پر ہراساں کرنے کے انتظامی ہتھکنڈوں پر عدلیہ کے اعلیٰ حلقوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔

شیئر کریں۔