بلقیس بانو کے مجرم کو گجرات ہائی کورٹ نے دی 7 دن کی پیرول

گجرات ہائی کورٹ نے 2002 کے سانحہ گجرات کے دوران بلقیس بانو اجتماعی زیادتی اور ان کے اہل خانہ کے لرزہ خیز قتل عام کے سنگین مقدمے میں عمر قید کاٹ رہے مجرم رادھے شیام بھگوان داس شاہ کو سات دن کی پیرول منظور کر لی ہے۔ جسٹس سنجیو جے ٹھاکر کی سنگل بنچ نے مجرم کی جانب سے دائر کردہ درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جیل حکام کی رپورٹ اور پیش کردہ وجوہات کی بنیاد پر اپنے صوابدیدی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے یہ ریلیف فراہم کیا۔

عدالت میں مجرم کے وکیل کے ڈی پرمار نے موقف اختیار کیا کہ رادھے شیام شاہ کے خاندان کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے اور خاندانی مالیاتی امور کو سلجھانے کے لیے اس کی قلیل مدتی رہائی ناگزیر ہے۔ دفاعی وکیل نے عدالت کو یہ بھی باور کرایا کہ اس سے قبل دسمبر 2025 میں بھی مجرم کو پیرول دی گئی تھی جس کے دوران اس نے شرائط کی پابندی کی تھی۔ ہائی کورٹ نے دلائل کا جائزہ لینے کے بعد 10 ہزار روپے کے ذاتی مچلکے (بانڈ) پر سات روز کی پیرول کی منظوری دی۔ عدالت نے واضح ہدایت دی کہ رہائی کے تیسرے اور پانچویں دن مجرم قریبی پولیس اسٹیشن میں حاضری درج کرائے گا اور مدت ختم ہوتے ہی فوری طور پر جیل حکام کے سامنے خود کو پیش کرے گا۔

یہ معاملہ ملک کی عدالتی اور انسانی حقوق کی تاریخ میں انتہائی حساس اور غیر معمولی نوعیت کا حامل رہا ہے۔ 2002 میں بلقیس بانو کے ساتھ سفاکانہ اجتماعی زیادتی کی گئی تھی اور ان کی تین سالہ معصوم بیٹی سمیت خاندان کے چودہ افراد کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ انصاف کے تقاضوں اور گواہوں کے تحفظ کے پیش نظر سپریم کورٹ نے اس کیس کا ٹرائل ریاست سے باہر منتقل کرنے کا تاریخی فیصلہ دیا تھا، جس کے بعد ممبئی کی خصوصی سی بی آئی عدالت نے 2008 میں رادھے شیام شاہ سمیت تمام 11 ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

رادھے شیام شاہ وہی مجرم ہے جس نے قبل از وقت رہائی کے لیے قانونی لڑائی چھیڑی تھی اور گجرات حکومت نے اگست 2022 میں 1992 کی پالیسی کے تحت تمام 11 مجرموں کی سزائیں معاف کر کے انہیں رہا کر دیا تھا۔ اس رہائی پر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی اور انصاف پسند حلقوں نے اسے متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی قرار دیا تھا۔ بعد ازاں 8 جنوری 2024 کو سپریم کورٹ آف انڈیا نے تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے گجرات حکومت کی معافی کو اختیارات کا ناجائز استعمال قرار دے کر کالعدم ٹھہرایا تھا اور واضح کیا تھا کہ سزا چونکہ مہاراشٹر میں سنائی گئی تھی اس لیے معافی کا اختیار بھی صرف مہاراشٹر حکومت کا ہے، جس کے بعد تمام مجرموں کو دوبارہ سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا گیا تھا۔

قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ سنگین ترین جرائم، خصوصاً فرقہ وارانہ فسادات کے دوران خواتین پر ہونے والے مظالم کے مجرموں کو بار بار پیرول یا عارضی رہائی ملنے سے انصاف کے نظام پر مظلوموں کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے۔ دوسری جانب گجرات ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر نگاہ رکھی جا رہی ہے اور پولیس انتظامیہ کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ پیرول کی مدت کے دوران طے شدہ شرائط پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائے۔

شیئر کریں۔