اتر پردیش کے سینئر رہنما اور سابق کابینہ وزیر محمد اعظم خان کی رہائی، ان کے خلاف درج سینکڑوں مقدمات کی واپسی اور محمد علی جوہر یونیورسٹی کو درپیش انہدامی خطرات کے خلاف اتوار کو نئی دہلی میں سماجوادی پارٹی کے کارکنان نے زبردست احتجاج کیا۔ ایس پی کے قومی سکریٹری اور جونپور کے سابق رکن اسمبلی محمد ارشد خان کی قیادت میں کارکنان جنتر منتر پر جمع ہونے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن پولیس کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کیے جانے کے بعد مظاہرین نے پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے کے باہر علامتی دھرنا دے کر اپنے مطالبات پیش کیے۔
محمد ارشد خان نے میڈیا سے بات چیت میں الزام عائد کیا کہ انتظامیہ نے پہلے مظاہرے کی اجازت دی تھی مگر عین وقت پر اسے منسوخ کر کے راستوں پر بیریکیڈنگ لگا دی گئی، جس کے باعث کارکنان کو سڑک پر بیٹھنا پڑا۔ رہنماؤں نے واضح کیا کہ 2019 کے عام انتخابات میں تمام تر مخالفتوں کے باوجود اعظم خان نے کامیابی حاصل کی تھی، جس کے فوری بعد محض تین سے چار ماہ کے اندر ان کے اور ان کے اہل خانہ پر لگ بھگ 350 فوجداری مقدمات درج کر دیے گئے۔ مظاہرین کے مطابق ایک ہی خاندان کے خلاف اس قدر قلیل مدت میں اتنی بڑی تعداد میں مقدمات قائم کرنا واضح طور پر سیاسی انتقام اور ریاستی مشینری کے کھلے غلط استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔
مظاہرے کے دوران رامپور میں قائم تاریخی محمد علی جوہر یونیورسٹی کی موجودہ صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ رہنماؤں نے کہا کہ ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے کو نشانہ بناتے ہوئے رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ادارہ اقلیتی اور پسماندہ طبقات کی اعلیٰ تعلیم اور جدید تحقیقی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا، اور عمارتوں کے خلاف ایسی کارروائیاں براہ راست ہزاروں زیر تعلیم طلبہ، اساتذہ اور متعلقہ ملازمین کے مستقبل کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہیں۔
احتجاج کے اختتام پر پارٹی کی جانب سے وزیر اعظم کے نام ایک تفصیلی میمورنڈم سونپا گیا۔ میمورنڈم میں مطالبہ کیا گیا کہ جوہر یونیورسٹی کی عمارتوں کے انہدام سے متعلق تمام نوٹسز کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے، کسی بھی ممکنہ مسماری پر قطعی روک لگائی جائے اور اعظم خان اور ان کے اہل خانہ پر سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے تمام غیر ضروری مقدمات کی غیر جانبدارانہ جانچ کرا کر ان کے ساتھ انصاف کیا جائے۔
سیاسی اور قانونی حلقوں کا ماننا ہے کہ ملک میں اقلیتی قیادت اور ان کے قائم کردہ فلاحی و تعلیمی منصوبوں کو قانونی شکنجوں میں کسنے کے رجحان سے سماجی اعتماد کو گہرا دھچکا پہنچ رہا ہے۔ قانونی ماہرین اور انصاف پسند حلقوں کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلافات کو انتقامی کارروائیوں کا رنگ دینے کے بجائے تعلیمی اداروں کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ طلبہ کا تعلیمی مستقبل غیر یقینی کا شکار نہ ہو۔




