کولکتہ: لاء کالج میں مسلم وائس پرنسپل کو استعفیٰ پر کیا گیامجبور،اے بی وی پی نے کمرہ میں گنگا جل کا کیا چھڑکاو

مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ کے تاریخی سریندر ناتھ لاء کالج میں اکھیل بھارتیہ ودیارتھی پریشد سے وابستہ مشتعل طلبہ نے تئیس گھنٹے کے طویل گھیراؤ اور دباؤ کے ذریعے مسلم خاتون وائس پرنسپل ڈاکٹر محمدی ترنم سے مبینہ طور پر جبری استعفیٰ لے لیا۔ استعفیٰ کے فوری بعد طلبہ نے وائس پرنسپل کے چیمبر میں داخل ہو کر گنگا جل چھڑکا اور اگربتیاں جلا کر اس کی مبینہ ’شدھی‘ کی، جس نے تعلیمی اداروں میں اقلیتی اساتذہ کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے اور ہندوتوا تنظیموں کے فکری غلبے پر شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ طلبہ کا موقف تھا کہ وہ کیمپس سے سابقہ ترنمول کانگریس حکومت کے اثر و رسوخ کو ختم کرنا چاہتے تھے، تاہم اس مذموم عمل کو عوامی حلقوں میں صریح تعصب اور فرقہ وارانہ ہراسانی کی کھلی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر محمدی ترنم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ انہیں تقریباً چوبیس گھنٹے تک ان کے دفتر میں بند رکھا گیا، جہاں بجلی اور پنکھے بند کر دیے گئے اور پینے کا پانی تک نہیں دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا استعفیٰ ایک گہری سازش کا نتیجہ ہے کیونکہ وہ امتحانی نظام میں شفافیت اور طلبہ کے لیے لازمی حاضری کے قواعد نافذ کر رہی تھیں۔ اگرچہ دباؤ کے تحت لکھوائے گئے استعفے میں ناگزیر گھریلو اور طبی وجوہات درج کروائی گئیں، لیکن کیمپس سے پولیس کے سخت پہرے میں باہر نکلتے وقت وہ مسلسل یہ کہتی رہیں کہ انہوں نے اپنی خوشی سے استعفیٰ نہیں دیا بلکہ ان پر ناقابل برداشت دباؤ ڈالا گیا تھا۔ دوسری جانب بی جے پی ایم ایل اے اور کالج کی گورننگ باڈی کے چیئرمین کوستو باگچی نے وائس پرنسپل پر طالب علم دشمن پالیسی چلانے کا الزام لگایا۔

اس پورے تنازع کی شروعات اس وقت ہوئی جب کالج انتظامیہ نے بار کونسل اور یونیورسٹی قوانین کے مطابق سمسٹر امتحانات میں شرکت کے لیے کم از کم پچھتر فیصد حاضری کا نوٹس جاری کیا۔ طلبہ کا دعویٰ تھا کہ نو سو میں سے تقریباً چھ سو طلبہ اس کڑی شرط کے باعث امتحان دینے سے محروم ہو رہے تھے۔ مذاکرات کے بعد حاضری کی شرط چالیس فیصد کرنے اور خود ساختہ حلف نامہ جمع کرانے کی نرمی دی گئی، لیکن اس انتظامی مسئلے کو جلد ہی سیاسی اور شناختی رخ دے کر وائس پرنسپل کو نشانہ بنایا گیا۔ مظاہرین نے ان پر ترنمول کانگریس کی کٹھ پتلی ہونے کا الزام عائد کیا، جس کی تردید کرتے ہوئے ڈاکٹر ترنم نے واضح کیا کہ ان کا ماضی بائیں بازو کی سیاست سے جڑا رہا ہے لیکن انہوں نے بطور پرنسپل ہمیشہ غیر جانبداری سے خدمات انجام دیں۔

کالج کے احاطے میں ایک سینئر مسلم خاتون استاد کے چیمبر کو ان کے رخصت ہوتے ہی گنگا جل سے دھونے کا عمل سوشل میڈیا اور شہری حلقوں میں شدید تنقید کی زد میں ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان اور مسلم سول سوسائٹی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہ محض امتحانی حاضری یا انتظامی تنازع نہیں بلکہ ایک مسلم شخصیت کی موجودگی کو ناپاک تصور کرنے کی وہ خطرناک ذہنیت ہے جو دلتوں اور مسلمانوں کے خلاف تعصب کی تاریخ دہراتی ہے۔ ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے میں آئینی اقدار، انسانی وقار اور قانونی تقاضوں کو پامال کرتے ہوئے اس طرح کی علامتی تحقیر پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اس واقعے کے بعد طلبہ سیاست کے نام پر اساتذہ کو جسمانی اور نفسیاتی اذیت کا نشانہ بنانے کے طریقہ کار پر بھی قانونی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ترنم نے ہائر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ اور کلکتہ یونیورسٹی سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے، تاہم اب تک ضلعی پولیس یا انتظامیہ کی جانب سے تعصب پر مبنی اس تذلیل کے خلاف کوئی باضابطہ قانونی اقدام سامنے نہیں آیا ہے۔ کیمپس میں کشیدگی کی فضا تاحال برقرار ہے۔

شیئر کریں۔